03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دیور کے زنا سے اور سسر کے شہوت سے چھونے سے حرمت مصاہرت کا حکم
88926نکاح کا بیانحرمت مصاہرت کے احکام

سوال

میں دبئی میں گورنمنٹ ملازمت کرتا ہوں ،میری ایک بیوی ،دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ۔میری بیوی نے میرے بھائی پر یہ الزام لگایا ہے کہ اس نے مجھ  سے زنا کیا ہے اور مجھے بھی اس پر شک ہے ۔اس کے بعد اب میری بیوی نے میرے والد پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے شہوت کے ساتھ مجھے ہاتھ لگایا ہے ،جبکہ مجھے یقین ہے کہ یہ جھوٹ ہے ۔اب میرا نکاح باقی رہا یا ختم ہوگیا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۔اگر آپ کی بیوی آپ کے بھا ئی  پر لگائے  گئےالزام کو شرعی طریقے سے ثابت کردے تو   آپ کے بھائی کے فروع جیسے)بیٹا،بیٹی ،پوتا ،پوتی وغیرہ (  آپ کی بیوی پر حرام ہوجائیں گے ،لیکن  اس زنا کی وجہ سے    آپ میاں بیوی کا نکاح ختم نہیں ہوگا  ۔

۲۔ اگر آپ اور آپ کے  والد  مذکورہ الزام کی تصدیق کردیتے تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہوجاتی،اور آپ کا نکاح ختم ہوجاتا ۔جبکہ صورت مسئولہ میں آپ نے انکار کیا  ہے ۔ اب اگر   آ پ کی بیوی قاضی کے پاس چلی گئی  تو  اس سے گواہ طلب کیے جائیں گے ۔اگر آپ کی  بیوی کا یہ دعوی ہوکہ سسر نے  ہونٹ  اور گال پر بوسہ دیا ، یا عضو مخصوص اور پستان کو چھوا ہے،تو صرف ان افعال کے وقوع   پر گواہ پیش کرے  ۔اس صورت  میں شہوت کا انکار ناقا بل تسلیم ہوگا ۔اگر  دعوی  پیشانی یا سر پر بوسہ دینے  اور  باقی بدن کو چھونے کا ہو تو  ان افعال کے وقوع کے ساتھ قرائن سے معلوم  ہونے کی صورت میں  شہوت کے ہونے کو بھی ثابت کرنا پڑے گا   ، صرف افعال پر گواہی کالعدم ہوگی   ۔اس کی بنا پر تفریق کا حکم نہیں ہوگا ۔

اگر آپ کی بیوی گواہ پیش نہ کر سکےیا گواہوں میں گواہی کی شرائط نہ ہوں توآپ سے حلف لیاجائے گا آپ اس طرح قسم اٹھائیں گے کہخدا کی قسممیرا زیادہ تر خیال یہ ہے کہ میری بیوی اس دعوے میں سچی نہیں ،اور اس واقعہ کا ہونا یاشہوت کے ساتھ ہونا میرے دل کو نہیں لگتا ۔ لہذا قسم کے بعدوہ عورت آپ کے نکاح میں ہی سمجھی جائے گی ،کسی قسم کی تفریق نہیں ہوگی۔

اگر آپ کی بیوی یہ سمجھتی ہے کہمجھے شہوت سے ہی سسر نےچھوا ہے ،مگر وہ اس پر شہادت معتبرہ پیش نہ کر سکی اور آپ نے حلف اٹھا لیااور تفریق واقع نہ ہوسکیتو آپ کی بیوی کے لیے جاِئز نہیں کہاپنے اختیار سے اپنے نفس پر آپکو قدرت دے بلکہ خلع وغیرہ کے ذریعے اپنے آپ کو آپ سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرے۔ آپ کو چائیے کہ اس صورت حال میں اپنی بیوی کو طلاق دے کر فارغ کردیں۔ اگر کوئی تدبیر کام نہ کرے توجب تک اپنا بس چلے آپکو اپنے پاس نہ آنے دے۔ اگر آپ نے حلف اٹھانے سے انکار کردیا توآپ دونوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی۔)الحیلہ الناجزہ،مولانا اشرف علی تھانوی،150ص(

حوالہ جات

الفتاوی الہندیہ )۳/۳۷۵(:

فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير.

الدر المختار،حاشیہ ابن عابدین) ۳/۳۳(:

(قوله: وأصل ماسته) أي بشهوة قال في الفتح: وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بأن يصدقها، ويقع في أكبر رأيه صدقها وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدق.

الفتاوى الهندية /1) 275(:

وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء تثبت بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة، كذا في الذخيرة.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 37):

وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هي (إلا أن يقوم إليها منتشرا) آلته (فيعانقها) لقرينة كذبه أو يأخذ ثديها (أو يركب معها) أو يمسها على الفرج أو يقبلها على الفم قاله الحدادي وفي الفتح يتراءى إلحاق الخدين بالفم، وفي الخلاصة قيل له ما فعلت بأم امرأتك فقال: جامعتها تثبت الحرمة؛ ولا يصدق أنه كذب ولو هازلا. (وتقبل الشهادة على الإقرار باللمس والتقبيل عن شهوة وكذا) تقبل (على نفس اللمس والتقبيل) والنظر إلى ذكره أو فرجها (عن شهوة في المختار) تجنيس لأن الشهوة مما يوقف عليها في الجملة بانتشار أو آثار.

قوله: وإن ادعت الشهوة في تقبيله) أي ادعت الزوجة أنه قبل أحد أصولها أو فروعها بشهوة أو أن أحد أصولها أو فروعها قبله بشهوة، فهو مصدر مضاف إلى فاعله أو مفعوله وكذا قوله: أو تقبيلها ابنه، فإن كانت إضافته إلى المفعول فابنه فاعل والأنسب لنظم الكلام إضافة الأول لفاعله والثاني لمفعوله ليكون فاعل يقوم الرجل أو ابنه كما أفاده ح (قوله: فهو مضاف) لأنه ينكر ثبوت الحرمة والقول للمنكر.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي،458/2)

واما توجيه اليمين على الزوج فظاهر للقاعدة المفردة من ان قول المنكر انما يعتبر مع اليمين - ونص عليه الفقهاء فى باب الرضاع وحرمة المصاهرة نظيرحومة الرضاع . وأما الفاظ اليمين فما خوذه مما فى الشامية عن الفتح. وثبوت الحرمة بلمسها مشروط بان يصدقها ويقع فى اكبر رايه صدقها وعلى هذا ينبغي ان يقال في مسه اياها لا تحرم على ابيه وابنه الا ان يصدقاها او يغلب على ظنها صدقه ثم رأيت عن ابی يوسف ما یفید  ذالک.

سلیم اصغربن محمد اصغر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/جمادی الاولی /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب