| 87116 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے چھوٹے بھائی کی شادی ہماری خالہ کی بیٹی سے ہوئی تھی، لیکن کچھ عرصے بعد لڑکی کے مطالبے پر بھائی نے اسے طلاق دے دی۔ شادی کے موقع پر جو سونے کی چیزیں دی گئی تھیں، وہ اس نیت سے دی گئی تھیں کہ جب بھی میرے بھائی کو یا ہمارے گھر کو ضرورت ہو، وہ ان چیزوں کو استعمال کر سکیں گے۔ ان چیزوں کا نہ میرے بھائی نے اور نہ ہی ہمارے گھر کے کسی فرد نے لڑکی کو مالک بنایا تھا۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ طلاق کے بعد وہ سونا اور دیگر تحائف لڑکی کی ملکیت شمار ہوں گے یا لڑکے کی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شادی کے موقع پر حق مہرکے علاوہ جو سونا اور زیور دلہن کو لڑکے والوں کی طرف سے دیا جاتا ہے، اس کی ملکیت کے حوالے سے درج ذیل تفصیل ہے:
-1اگرزیور دیتے وقت ملکیت یاعاریت کی تصریح نہ کی گئی ہوتوعلاقے کے عرف اور رواج کو دیکھا جائے گا۔
-2اگر اس معاملے میں عرف واضح نہ ہو،یا دونوں طریقے رائج ہوں تو اس صورت میں لڑکے کا دعویٰ ہی معتبر سمجھا جائے گا۔
حوالہ جات
في الفتاوی الھندیۃ:وإذا بعث الزوج إلى أهل زوجته أشياء عند زفافها، منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية.( الفتاوی الھندیۃ:327/1)
في الفتاوی الھندیۃ:جهز بنته وزوجها ثم زعم أن الذي دفعه إليها ماله وكان على وجه العارية عندها وقالت: هو ملكي جهزتني به أو قال الزوج ذلك بعد موتها فالقول قولهما دون الأب وحكى عن علي السغدي أن القول قول الأب وذكر مثله السرخسي وأخذ به بعض المشايخ وقال في الواقعات إن كان العرف ظاهرا بمثله في الجهاز كما في ديارنا فالقول قول الزوج، وإن كان مشتركا فالقول قول الأب، كذا في التبيين. قال الصدر الشهيد - رحمه الله تعالى - وهذا التفصيل هو المختار للفتوى.( الفتاوی الھندیۃ:327/1)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
/11 رمضان،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


