03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھ بیٹوں اور چاربیٹیوں میں دوکانوں کی تقسیم
86870میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ مرحوم حاجی احمد علی خان  کاانتقال 2013 میں ہوا،ان کےورثہ میں چھ بیٹے اور چار بیٹیاں  موجود تھے،مرحوم کی بیوی کاانتقال 2009 میں ہوگیاتھا،سوال یہ ہےکہ ،مرحوم کی ملکیت میں تین  دوکانیں عمر کوٹ میں ہیں جو اڈے کے شمال میں ہیں،ان کی تقسیم کس طرح ہو گی ؟

تنقیح کےمطابق مرحوم کےورثہ میں سےایک وارث(یوسف کمال پاشا)کاانتقال 2021 میں ہوا،اورایک دوسرے وارث  (بابرمحمود) کاانتقال 2022 میں ہوا ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم   کے ترکہ میں سے سب سے پہلے تجہیز وتکفین کامعتدل خرچہ (اگركسی وارث نے یہ خرچہ بطورتبرع نہ کیا ہو (اداکیاجائےگا،پھر مرحوم کاقرضہ اداکیاجائےگا،پھر  اگرمرحوم   نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائزوصیت کی ہےتوترکہ کےایک تہائی تک اس کواداکیاجائے،اس کےبعدجوکچھ بچ جائے،اس کومرحوم کےانتقال کےوقت موجودورثہ (چھ بیٹے اورچار بیٹیوں )میں تقسیم کیاجائےگا۔

صورت مسئولہ میں تقسیم کاطریقہ یہ ہوگاکہ عمرکوٹ میں موجوددوکانوں  کی مارکیٹ ویلیو لگوائی جائے،جس وقت  دوکانوں کومیراث کےطورپر تقسیم کرنےکاارادہ ہو، اس وقت تمام دوکانوں کی جو قیمت بنتی ہو،اس کوورثہ کےشرعی حصوں کےمطابق تقسیم کیاجائےگا۔

ٹوٹل میراث چھ بیٹےاورچاربیٹیوں میں تقسیم ہوگی،بیٹےکو دوحصےاور ہربیٹی کو ایک ایک حصہ دیاجائےگا ۔

فیصدی اعتبارسےتقسیم کیاجائےتوہربیٹےکو12.5%فیصدحصہ ملےگااورہربیٹی کو 6.25%فیصدحصہ ملےگا۔

اگرتمام ورثہ راضی ہوں تودوکانوں کواس طرح بھی تقسیم کیاجاسکتاہےکہ شرعی حصےکےاندازےکےبعد کوئی ایک وارث کسی ایک پوری دکان  کولےلےاوراس دکان میں دیگر ورثہ کاجوحصہ بنتاہے،وہ وارث باقی ورثہ کو ان کاحصہ دےدےتوباہمی رضامندی سےیہ صورت بھی اختیارکی جاسکتی ہے۔

مرحوم کےنتقال کےبعد جن ورثہ کاانتقال ہواہے،مرحوم کی میراث میں سےچونکہ ان کاحصہ بنتاہے،لہذا ان کاحصہ ان کی اولاد کےحوالہ کیاجائےگا۔

حوالہ جات

"السراجی فی المیراث "5،6 :

 الحقوق المتعلقہ بترکۃ المیت :قال علماؤنارحمہم اللہ تعالی تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأبتکفینہ وتجہیزہ من غیرتبذیرولاتقتیر،ثم تقصی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذوصایاہ من ثلث مابقی بعدالدین ،ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ ۔

قال اللہ تعالی فی سورۃ النساء:

یوصیکم اللہ فی اولادکم للذکرمثل حظ الانثیین۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

13/شعبان 1446 ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب