03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی )کا حکم (IVF (Test Tube Baby))
87119جائز و ناجائزامور کا بیانٹیسٹ ٹیوب بے بی اورخون کی منتقلی کے احکام

سوال

السلام علیکم! مجھے یہ معلوم کرنا ہے  کہ میری ایک بیٹی ہے  چودہ سال کی ،لیکن اس کے بعد کوئی اولاد نہیں  ہو رہی ہے۔ بہت علاج کروالیا ،اب مجھے یہ پوچھنا ہے کہ ٹیوب(IVF (Test Tube Baby ) کے آپریشن سے جو بچہ ٹھہرتا ہے ،وہ کروا سکتے ہیں یا نہیں ؟اور وہ آپریشن میل کرتا ہے، اور جو جراثیم لیا جاتا ہے وہ شوہر کا ہی ہوتا ہے، اس کے بارے میں ہمیں بتا دیجیے کہ جائز  ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر میاں بیوی کی فطری طریقے سے اولاد نہ ہوتی ہو، تو آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کا طریقہ بطورِ علاج اختیار کرنا جائز ہے اِس شرط کے ساتھ کہ جرثومہ کسی غیر مرد کا نہ ہو، بلکہ شوہر ہی کا ہو اور اُسے بیوی کے بیضہ سے جوڑ کر بیوی ہی کے رحم میں رکھا جائے، کسی اور خاتون کے رحم میں نہ رکھا جائے۔ اور علاج کے دوران مندرجہ ذیل دوباتوں کا مزید خیال رکھا جائے:

1۔ شوہر کی منی کا اخراج بیوی کے ذریعے سے ہو۔ بیوی کے ہاتھ کے ذریعہ بھی منی کا اخراج کیا جاسکتا ہے۔

2۔ بیوی کے رحم میں نطفہ پہنچانے کا عمل کسی لیڈی ڈاکٹر کے ذریعے انجام دیا جائے اور جتنا ستر کھولنے کی حاجت ہو، صرف اُس حد تک ستر کھولا جائے، باقی ستر کے حصے کو نہ کھولا جائے۔ آج کل بسہولت  لیڈی ڈاکٹر کا انتظام  ہوسکتا ہے،لہذا مرد ڈاکٹر کے ذریعے  آپریشن کرانا جائز نہیں ۔

حوالہ جات

قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : "وإن كان في موضع الفرج، فينبغي أن يعلم امرأة تداويها، فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو يصيبها وجع لا تحتمله يستروا منها كل شيء، إلا موضع العلة، ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع، إلا عن موضع الجرح ".(رد المحتار:371/6)

قال العلامة الكاساني  رحمه الله : وكذا إذا كان بها جرح أو قرح في موضع لا يحل للرجال النظر إليه فلا بأس أن تداويها إذا علمت المداواة، فإن لم تعلم تتعلم ثم تداويها ،فإن لم توجد امرأة تعلم المداواة ولا امرأة تتعلم وخيف عليها الهلاك أو بلاء أو وجع لا تحتمله يداويها الرجل، لكن لا يكشف منها إلا موضع الجرح ويغض بصره ما استطاع.(بدائع الصنائع :124/5)

قال العلامة السرخسي رحمه الله : "ويجوز أن يستمني بيد زوجته وخادمته . وسيذكر الشارح في الحدود عن الجوهرة أنه يكره ،ولعل المراد به كراهة التنزيه فلا ينافي قول المعراج. يجوز تأمل. وفي السراج: إن أراد بذلك تسكين الشهوة المفرطة الشاغلة للقلب وكان عزبا لا زوجة له ولا أمة أو كان إلا أنه لا يقدر على الوصول إليها لعذر،قال أبو الليث :أرجو أن لا وبال عليه، وأما إذا فعله لاستجلاب الشهوة فهو آثم ". (رد المحتار:298/2)

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۱ رمضان المبارک   ۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد فیاض بن عطاءالرحمن

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب