03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیرون ملک مقیم پاکستانی صدقہ فطر کیسے ادا کریں؟
87156روزے کا بیانروزے کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میرا ایک دوست سعودی عرب میں مقیم ہے،وہ گندم کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کرنا چاہتاہے۔ اسے سوشل میڈیا پر صدقہ فطر کے حوالے سے متضاد معلومات ملی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ بعض علماء کے نزدیک صدقہ فطر سعودی عرب کے نرخ کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے، جبکہ کچھ علماء کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں مقیم مسافر پاکستانی حساب سے پونے دو کلو گندم کی قیمت ادا کرکے بھی صدقہ فطر دے سکتے ہیں۔براہ کرم رہنمائی فرمائیں کہ صدقہ فطر کی ادائیگی میں کس ملک کے نرخ کا اعتبار کیا جائے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صدقہ فطر کی مقدار گندم کے حساب سے پونے دو کلو ہے، چاہے اسے دنیا کے کسی بھی مقام پر ادا کیا جائے۔ اگر صدقہ فطر کی رقم ادا کرنی ہو تو ادائیگی کرنے والے کی موجودہ جگہ کے نرخ کا اعتبار ہوگا۔ لہٰذا، اگر آپ عید الفطر سعودی عرب میں منائیں گے، تو آپ پر لازم ہوگا کہ اپنا اور اپنے نابالغ بچوں کا صدقہ فطر سعودی عرب میں پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت کے مطابق ادا کریں۔ چاہے آپ یہ رقم وہیں ادا کریں، پاکستان بھیجیں یا اپنی اجازت سے پاکستان میں ادا کرائیں، ادائیگی کا معیار بہرحال سعودی عرب کے نرخ کے مطابق ہی ہوگا۔احتیاطاً سوا دو کلو گندم کے حساب سے ادا کریں۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين :2/ 355

"والمعتبر في الزكاة فقراء مكان المال، وفي الوصية مكان الموصي، وفي الفطرة مكان المؤدي عند محمد، وهو الأصح، وأن رءوسهم تبع لرأسه.

و قال ابن عابدین رحمہ اللہ:(قوله: مكان المؤدي) أي لا مكان الرأس الذي يؤدي عنه (قوله: وهو الأصح) بل صرح في النهاية والعناية بأنه ظاهر الرواية، كما في الشرنبلالية، وهو المذهب كما في البحر؛ فكان أولى مما في الفتح من تصحيح قولهما باعتبار مكان المؤدى عنه". فقط والله أعلم

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم

 دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

11رمضان المبارک1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب