03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کو ڈرانے کے لیےتین دفعہ لفظ “طلاق”کہنا
89202طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

      حضرت میرے دوست نے گھر والوں کو ڈرانے کے لیے پنجابی میں کہا کہ "میں سمیہ نو طلاق طلاق طلاق دینا وا"۔ پھر بولا "میں سمیہ نو طلاق طلاق طلاق دینا وا"۔ اب وہ کہتا ہے کہ میں نے یہ الفاظ صرف گھر والوں کو ڈرانے کے لیے کہے تھے۔ اور اس بارے میں اس کی بیوی کو نہیں پتا تھا۔ گھر میں بیوی کی اس کی بہن سے روز بروز لڑائی ہوتی رہتی۔ ایک دن بلی کی وجہ سے بیوی کی  اس کی بہن سے لڑائی ہوئی، تب اس نے صرف ڈرانے کے لئے یہ الفاظ کہے۔

      ایک مفتی صاحب نے کہا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی ہے۔ کیوں کہ اس نے "دینا وا" کا لفظ ادا کیا ہے جس سے مستقبل مراد ہوتا ہے۔ لیکن وہ کہتا ہے کہ میں نے نیٹ پر کئی جگہ دیکھا، ہر کوئی یہی فرما رہا ہے کہ صرف "طلاق طلاق طلاق" کے الفاظ بولنے سے ہی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔اس واقعہ کے گزرے 5 سال ہونے کو ہیں۔ مگر اس نے اپنی بیوی کو اب اطلاع دی ہے۔

      کیا اس وقت طلاق واقع ہوئی تھی؟ اگر ہوئی تھی تو اب یہ دونوں ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں، حلالہ کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

      اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ میں سمیہ کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں۔  اس میں طلاق کی دھمکی نہیں بلکہ فوری طور پر  طلاق دینے کے صریح الفاظ ہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں تین طلاقیں  واقع ہوگئی ہیں،  بیوی   شوہر کے لیے حرام ہوگئی ہے،اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ دوبارہ نکاح۔

      البتہ اگر  یہ خاتون عدت کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرلے ۔  اور ازدواجی تعلق قائم کرنے کے بعد شوہر وفات پاجاتا ہے یا  کسی اور وجہ سے اسے طلاق  دے دیتا ہے ، تو خاتون عدت کے  بعد سابقہ شوہر کے ساتھ دوبارہ  نکاح کرسکتی ہے۔

حوالہ جات

ردالمحتار: (ج:3،ص:293،ط:ایچ ایم سعید)

       "كرر لفظ الطلاق وقع الكل،وإن نوى التأكيد   دين.

       (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق… (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء ."

الفتاوى الهندية: (ج:1،ص:390،ط:العلمية)

      "وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق."

بدائع الصنائع: (ج:4،ص:403،ط:العلمية)

     "وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."

الفتاوى الهندية : (ج:1،ص:506، ط:العلمية)

    "وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها  ."

سید سمیع اللہ شاہ سید جلیل شاہ

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

11/ جمادی الاخری/1447ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب