| 89279 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
گزارش یہ ہے کہ بیٹی کی شادی، جہیز اور رخصتی کے موقع پر والد اپنی استطاعت کے مطابق جو خرچ کرتا ہے، کیا وہ شرعاً وراثت، ہبہ یا تقسیمِ ترکہ کے حکم میں شمار ہوتا ہے؟ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ خرچ تو عرف، معاشرتی ضرورت اور وقتی رواج کے تحت دیا جانے والا جہیز ہے، نہ کہ وراثت یا وراثتی ہبہ یا تقسیم ترکہ۔ اور کیا والد کو شرعاً یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو عزت اور خوشی کے ساتھ رخصت کرے، اور اپنی استطاعت کے مطابق مناسب سامان جیسے فرنیچر، برتن، فریج، زیورات، لباس وغیرہ دے، بغیر اس کے کہ دیگر اولاد کی اجازت یا رضا مندی ضروری ہو؟ اس ضمن میں یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ: کتنی رقم یا تناسب تک ہبہ دینا شرعی طور پر جائز ہے جس میں سب اولاد کے ساتھ برابری لازم نہیں۔ کتنی رقم یا تناسب تک جہیز دینا جائز اور مناسب ہے جس میں بیٹے برابری کا مطالبہ نہ کریں۔ چونکہ بالغ بیٹے اپنی مالی ذمہ داریاں خود اٹھاتے ہیں اور بیٹیاں شادی تک والد کی کفالت میں شمار ہوتی ہیں، عموماً بھائی اپنی بہن کی شادی پر خوشی سے خرچ کرتے ہیں اور والد پر اعتراض یا مطالبہ نہیں کرتے۔ لیکن بعض جگہوں پر کچھ بھائی حسد یا کم ظرفی کی وجہ سے والد کو آزمائش میں ڈال کر بہن کے جہیز کے ساتھ مقابلہ یا برابری کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں والد کی صوابدید، اختیار اور شرعی حدود کیا ہیں؟ مزید یہ کہ والد یہ سب اپنی استطاعت اور صوابدید کے مطابق کرتا ہے، اور بالغ بیٹے اپنی شادی اور اپنے خرچ خود اٹھانے کے مکلف ہیں، اس لیے والد کے اس عمل پر اعتراض کرنا شرعاً کیا حیثیت رکھتا ہے؟ براہِ کرم اس پورے معاملے پر شرعی حکم، رقم کی حدود، جہیز اور ہبہ کے اصول، اور بھائیوں کی اعتراضات یا کم ظرفی کی صورت میں والد کے اختیار کے حوالے سے راہنمائی ارشاد فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً و أحسن الجزاء۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اخلاقا اور شرعا والدین کے لیے ضروری ہے کہ اپنی استطاعت کی بقدر مال خرچ کر کے بیٹی کو مناسب طریقے سے رخصت کریں۔ بیٹی کی شادی کے موقع پر ہونے والے ضروری اخراجات میں باقی اولاد کے ساتھ برابری ضروری نہیں ، اور اس میں مال خرچ کرنے کی کوئی مقدار بھی متعین نہیں ہے ،بلکہ ضرورت کے بقدر والدین اپنی استطاعت کے مناسب مال خرچ کر سکتے ہیں۔ یہی حکم جہیز کے طور پر دیے گئے سامان کا ہے،یعنی بطور رسم یہ لڑکی والوں کے ذمے نہیں ہے۔تاہم بے تکلف خوشی کے موقع کی مناسبت سے کچھ دیں تو دیگر بچوں کو اس کے برابر ہدیہ دینا ضروری نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
سنن البیہقی،(8292/1):
من ولد له ولد فليحسن اسمه وادبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فاصاب اثما فإنما اثمه على ابيه.
سنن النسائی ( 135/6)
عن علي، رضي الله عنه قال: جهز رسول الله صلى الله عليه وسلم فاطمة في خميل وقربة ووسادة حشوها إذخر.
ذخیرہ العقبی فی شرح المجتبی (154/28):
منها: ما ترجم له المصنّف -رحمه اللَّه تعالى-، وهو مشروعيّة تجهيز الرجل. بنته بما تحتاج إليه، مما تيسر له. ومنها): ما كان عليه صلى اللَّه عليه وسلم أيضًا، من العناية ببناته، والقيام بتربيتهنّ، وتزويجهنّ، وتجهيزهنّ لأزواجهنّ بما جرت به العادة، حتى تكون الألفة والمحبة بين الزوجين دائمة؛ لأن الرجل إذا لم يكن للزوجة جهاز ربما يتبرّم، ويتثاقل منها، ولا يحسن عشرتها، ولا يريد أن تطول صحبتها له.
الموسوعہ الفقہیہ الکوتیہ، (165/16):
الجهاز بالفتح، والكسر لغة قليلة، وهو اسم… لما تزف به المرأة إلى زوجها من متاع.
الموسو عہ الفقہیہ الکوتیہ ، (166/16):
ذهب جمهور الفقهاء إلى أنه لا يجب على المرأة أن تتجهز بمهرها أو بشيء منه، وعلى الزوج أن يعد لها المنزل بكل ما يحتاج إليه ليكون سكنا شرعيا لائقا بهما. وإذا تجهزت بنفسها أو جهزها ذووها فالجهاز ملك لها خاص بها.
حاشیہ ابن عابدین،(444/4):
وفي الخانية: ولو وهب شيئاً لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى.
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


