| 89200 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
کیا یزدان نام رکھنا جائز ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
''یزدان '' کے معنی ہیں : نیکی کا خدا، نیکی اور خیر کا خالق ۔
''مجوس'' کے عقیدے کے مطابق خیر اور شر کے الگ الگ خالق ہیں ،خیر اور نیکی کا پیدا کرنے والا ''یزدان'' اور شر و برائی کا پیدا کرنے والا ''اہرمن'' ہے ۔اور یہ دونوں کو اپنا خدا تسلیم کرتے ہیں اس لیے یہ نام رکھنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
الملل والنحل) 2/ 37(:
ثم إن التثنية اختصت بالمجوس، حتى أثبتوا أصلين اثنين، مدبرين قديمين؛ يقتسمان الخير والشر، والنفع والضر، والصلاح والفساد، يسمون أحدهما: النور والآخر الظلمة. وبالفارسية: يزدان وأهرمن. ولهم في ذلك تفصيل مذهب.
الفرق بين الفرق (ص278):
وهذا فى التحقيق معنى قول المجوس ان أليزدان خلق اهرمن وانه مع اهرمن مدبران للعالم غير ان أليزدان فاعل الخيرات واهرمن فاعل الشرور.
محمد سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
12/جمادی الثانیہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


