03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مقروض پر صدقہ فطر کا حکم
87155روزے کا بیانروزے کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں سعودی عرب میں مقیم ہوں۔ مجھ پر تین لاکھ روپے کا قرض ہے، قرض چکانے میں بہت ساری مشکلات کا سامنا ہے۔ گھر کا خرچ بھی بمشکل پورا ہو رہا ہے۔ کیا ایسی صورت میرے لیے صدقہ فطر ادا کرنا ضروری ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عید الفطر کے دن صبح صادق تک، اگر آپ تین لاکھ قرض کی رقم منہاکرنے کے بعد اتنا مال رکھتے ہوں، جو قربانی کے نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو آپ پر صدقہ فطر واجب ہوگا، ورنہ واجب  نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

مراقي الفلاح مع حاشية الطحطاوى: ص،723

تجب على حر مسلم مكلف مالك لنصاب أو قيمته…فارغ عن الدين.

الردعلی الدر:358-360/2

"(تجب)...(على كل) حر (مسلم)...(ذي نصاب فاضل عن حاجته الأصلية) كدينه وحوائج عياله .

جمیل الرحمٰن بن محمد ہاشم

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

14رمضان المبارک1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

جمیل الرحمٰن ولدِ محمد ہاشم

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب