| 87202 | خرید و فروخت کے احکام | زمین،باغات،کھیتی اور پھلوں کے احکام و مسائل |
سوال
ہمارے گاؤں میں کچھ زمین شاملات تھی جو تمام گاؤں کی مشترکہ تھی ۔وہ ایک شخص کے پاس تھی جو وہ اس کو استعمال کرتا تھا۔ہمارے اباؤ اجداد گاؤں میں امامت کرواتے تھے تو اس شخص نے وہ زمین ان کو دے دی اور کہا آپ ہمارے امام ہیں تو یہ آپ استعمال کریں اور اپنا گزر بسر کریں۔1956 میں ایوب دور میں ایک قانون پاس ہوا جس میں اس نے کہا کہ جس کے پاس تقریبا کچھ عرصہ سے زمین موجود ہے لیکن وہ اس کے نام نہیں ہے وہ زمین کا مالکانہ کار سرکار میں جمع کروائے اور زمین اپنے نام کروا لے ہمارے ابا و اجداد نے وہ زمین مالکانہ گورنمنٹ کو جمع کروا کر اپنے نام کروا لی ہے اور اس پر گاؤں کے کسی شخص نے اعتراض نہیں کیا کہ یہ مشترکہ زمین تھی گاؤں کی تو اپ نے کیوں نام لگوائی ہے۔جب نام لگ گئی ہے تو اب اس کی وراثت بھی تقسیم ہوئی ہے۔اب لوگ کہتے ہیں کہ وہ زمین ہم نے امام مسجد کو دی تھی تو وہ زمین ہماری ہے جو امام ہوگا وہی اس زمین کو استعمال کرے گا ۔جو انتقال آپ لوگوں نے کروایا ہے وہ غیر قانونی ہے اور آپ غیر شرعی طور پر اس پر قابض ہیں برائے مہربانی اس ساری صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ سے التماس ہے کہ مجھے اس کے بارے میں رہنمائی فرمائیں کیا وہ ہم اس زمین پر ناجائز قابض ہیں کیا وہ زمین اب ہماری حصے میں نہیں ہے۔یا ہمارے ابا و اجداد نے جو اس وقت گورنمنٹ کی فیس ادا کر کے زمین اپنے نہ لگوائی تھی اور اس وقت کسی شخص نے اس پر اعتراض نہیں کیا تھا تو کیا یہ ہمارے لیے جائز ہے یا نہیں ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایسی شاملاتی زمین جوکہ مشترکہ غیر تقسیم شدہ شکل میں ہو،تو ایسی زمین کو تمام شرکاکی اجازت کے بغیر اپنے نام کروانا جائز نہیں ۔صورت مسؤلہ میں آپ کے آباؤ اجداد کا مشترکہ زمین کو اپنے نام کروالینے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی،لہذا اس زمین پر آپ لوگوں کا قابض ہو نا جا ئز نہیں۔
حوالہ جات
«(المادة 1075) - (كل واحد من الشركاء في شركة الملك أجنبي في حصة الآخر ولا يعتبر أحد وكيلا عن الآخر فلذلك لا يجوز تصرف أحدهما في حصة الآخر بدون إذنه،» (شرح مجلة الأحكام» : 3/ 28)
محمد اسماعیل بن محمداقبال
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
19/ رمضان المبارک 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن محمد اقبال | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


