| 86974 | گری ہوئی چیزوں اورگمشدہ بچے کے ملنے کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
میں ایک ڈاکٹر کے پاس کلینک میں بطور کمپاونڈر کام کرتا ہوں اور لوگ اسٹور سے انجیکشن خرید کر میرے پاس لاتےہیں تو ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق جتنا ان کو لگانا ہوتا ہے میں لگادیتاہوں ،باقی آدھی بوتل رہ جاتی ہے جو مریض کے کسی کام کی نہیں ہوتی، اسی طرح دوسرا مریض بھی وہی انجیکشن لاتا ہے تو میں پہلے والے مریض کے بچے ہوئے انجیکشن سے لگا دیتا ہوں اور دوسرے مریض کا انجیکشن پورا رہ جاتا ہے، اسی طرح کافی مقدار میں انجیکشن جمع ہو جاتے ہیں ،ایسی صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے، اور کیا میں اسی بوتل کو اپنے بھائی کے اسٹور پر بیچ سکتا ہوں؟ براہ کرم رہنمائی فرمائیں!
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر آپ کو غالب گمان ہو کہ اصل مالک انجیکشن دوبارہ طلب نہیں کرے گا، تو آپ اصل مالک کی طرف سے اسے کسی غریب مریض کو صدقہ کر دیں اور اس کے علاج کے لیے استعمال کریں۔ البتہ، اگر آپ خود مستحق زکوٰۃ نہیں ہیں تو آپ کے لیے اسے کاروباری مقصد سے بیچنا یا ذاتی فائدہ حاصل کرنا جائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
قال العلامہ المرغینانی رحمہ اللہ تعالی : ولا يتصدق باللقطة على غني ؛ لأن المأمور به هو التصدق ؛لقوله عليه الصلاة والسلام: فإن لم يأت يعني صاحبها فليتصدق به والصدقة لا تكون على غني فأشبه الصدقة المفروضة ،وإن كان الملتقط غنيا لم يجز له أن ينتفع بها. (الهداية :2 / 419)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ تعالی: (فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه....(فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها (أو تضمينه). (الدر المختار مع رد المحتار:4/278 )
في الفتاوی الھندیۃ:نوع يعلم أن صاحبه لا يطلبه كالنوى في مواضع متفرقة وقشور الرمان في مواضع متفرقة، وفي هذا الوجه له أن يأخذها وينتفع بها إلا أن صاحبها إذا وجدها في يده بعد ما جمعها فله أن يأخذها ولا تصير ملكا للآخذ. (الفتاوى الهندية:2/ 290(
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ :ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح.( الفتاوى الهندية: 289/2)
قال العلامۃ السرخسي رحمہ اللہ : وإن كان الملتقط محتاجا فله أن يصرفها إلى حاجة نفسه بعد التعريف؛ لأنه إنما يتمكن من التصدق بها على غيره لما فيه من سد خلة المحتاج واتصال ثوابها إلى صاحبها، وهذا المقصود يحصل بصرفها إلى نفسه إذا كان محتاجا. فكان له صرفها إلى نفسه لهذا المعنى. فأما إذا كان غنيا فليس له أن يصرف اللقطة إلى نفسه عندنا. (المبسوط للسرخسی: 11/ 7)
شمس اللہ
دارالافتاء جامعۃالرشید،کراچی
/28 شعبان ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | شمس اللہ بن محمد گلاب | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


