| 87350 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہم پانچ بھائی ہیں۔ والد صاحب وفات پا چکے ہیں۔ والد صاحب کی ایک دُکان تھی جس میں پانچوں بھائی اکٹھے کام کرتے تھے ۔ دکان پر کچھ قرض تھا جسےہم میں سے دو بھائیوں نےوالد صاحب کی حیات میں ہی اداکیا تھا۔اب والد صاحب کے انتقال کے بعد جو دکان ہے، اس سے ان دونوں بھائیوں نے خوب پیسے کمائے ہیں ۔ نیز ایک بھائی کا الگ سے دوسرا کام بھی ہے۔اب یہ بھائی اس سب مال اور جائیداد میں حصہ دار ہوگا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد صاحب کی وفات کے بعد دکان اور دیگر املاک میں تمام بھائی ورثہ ہونے کی حیثیت سےشریک ہوگئے ،لہذااگر ان کے علاوہ کوئی اور وارث نہیں تو سب بھائی ہی ورثہ ہوں گے اور باہم برابر کے شریک ہوں گے۔جن دو بھائیوں نے والد صاحب کی حیات میں دکان کا قرض چکایا تھا اگر ا نہوں نے اس وقت اس رقم کے قرض ہونے کی شرط نہیں لگائی تھی تو وہ ان کی جانب سے احسان کا معاملہ تھا، جس کی وجہ سے دکان کی ملکیت میں ان کا حصہ نہیں بڑھے گا۔
حوالہ جات
قال الله تعالي:
يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِي أَولَٰدِكُم لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ ٱلأُنثَيَينِۚ...فَرِيضَةٗ مِّنَ ٱللَّهِ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمٗا .(النساء:11)
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (3/ 313):
قَالَ رحمه الله (شِرْكَةُ الْمِلْكِ أَنْ يَمْلِكَ اثْنَانِ عَيْنًا إرْثًا أَوْ شِرَاءً) وَكَذَا اسْتِيلَاءً أَوْ اتِّهَابًا أَوْ وَوَصِيَّةً أَوْ اخْتِلَاطُ مَالٍ بِغَيْرِ صُنْعٍ أَوْ بِصُنْعِهِمَا بِحَيْثُ لَا يَتَمَيَّزُ أَوْ يَعْسُرُ كَالْجِنْسِ بِالْجِنْسِ أَوْ الْمَائِعِ بِالْمَائِعِ أَوْ خَلْطُ الْحِنْطَةِ بِالشَّعِيرِ .
حمادالدین قریشی
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
5/ذی القعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


