| 90003 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
میں مسمی ........ سکنہ ............سیکٹر21 کارہائشی ہوں اور آپ کے علم یہ بات لانا چاہتا ہوں کہ میری بیٹی کا نکاح ڈھائی سال پہلے ........... کے بیٹے ............ سے طے ہوا اور کہا گیا کہ ایک سال کے بعد رخصتی کریں گے۔ لڑکے کے والد اور ان کے اہل خانہ نے ابتداء ہی سے مجھ سے جھوٹی باتیں کہیں جو کہ یہ ہیں:
نمبر1کہ یہ میرا اپنا گھر ہے۔
نمبر2 کہ یہ میری تینوں بیٹیاں شادی شدہ ہیں۔
نمبر3 کہ یہ ...........ی (لڑکے کا باپ) کے تین بیٹے ہیں۔
میں نے ان کے اہل خانہ سے مل کر اور ان کی نیک صورت دیکھ کر اپنی بیٹی کی بات پکی کی، میرا جب ان کے گھر میں آنا جانا ہوا تو بہت سی جھوٹی باتیں میرے سامنے آئیں، وہ یہ کہ ان کی ایک بیٹی عرصہ دراز سے طلاق شدہ گھر پر بیٹھی ہے اور جب ایک سال کے اندر رخصتی کا وقت آیا تواس کے علاوہ دیگر معاملات بعد میں سامنے آئے کہ بقول لڑکے کے میرے والد اپنے لیے ایک نیا گھر خرید رہے ہیں، تا کہ نئے گھر میں دلہن کا سامان آئے،کیونکہ گھر بدلنا بار بار آسان نہیں ہوتا ۔
اس طرح ڈھائی سال کا عرصہ گزرگیا، میرے رشتے دار شادیوں میں ملاقات کے دوران مجھ سے پوچھتے رہے کہ آپ کب اپنی بیٹی کی رخصتی کریں گے؟ اس طرح تقریبا ڈھائی سال کا عرصہ گزرگیا اور یہ لوگ ٹائم بڑھاتے رہے۔ ہم نے لڑکی والے ہونے کے ناطے صبر و تحمل سے کام لیتے رہے۔ آخر میں تنگ آکر میں اور میرے اہل خانہ ان کے گھر گئے اور ان سے پوچھا کہ ڈھائی سال کا عرصہ گزر گیا ہے ،آپ اپنے بیٹے کی شادی کب کریں گے اور نیا گھر کب خریدیں گے؟ تاکہ رخصتی ہو سکے تو انہوں نے یہ باتیں بتائیں کہ ہماری زمین سکھر میں ہے اور ہم اس کو فروخت کر رہے ہیں اس کوفروخت میں مسئلہ ہو رہا ہے، پارٹی والے پندرہ کروڑ دے رہے ہیں، جبکہ ہم پچیس کروڑ مانگ رہے ہیں۔
اس پر ہم نے کہا ہمیں آپ کی زمین سے کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی آپ کے نئے گھر سے کوئی مطلب ہے۔شروع میں آپ صرف بات پکی کرتے ، نکاح نہ کرتے، جناب مفتی صاحب جس کام میں جھوٹ و فریب ہو تو وہ کام نہیں ہوتے۔ اس کے بعد میں نے ان سے کہا کہ آپ نے یہ سب باتیں ہمیں پہلے کیوں نہ بتائیں؟
جناب مفتی صاحب احسن آباد میں یہ لوگ پچیس ہزار روپے کے کرائے پر رہ رہے ہیں۔ جناب مفتی صاحب اس پورے گھر میں صرف ایک ہاتھ روم ہے اور جس کمرے میں یہ باتھ روم ہے وہ کمرہ میرے داماد اور میری بیٹی کو دیا جائے گا، جس میں سارے گھر کے اہل خانہ کا آنا جانا ہے جس کی وجہ سے بےپردگی ہوگی تو اس پر ہم نے ان سے کہا کہ آپ نیا گھر نہیں خرید رہے تو آپ نیا گھر کرائے پر لے لیں تو اس پر انہوں نے کہا اس کے لیے تین لاکھ روپے (3,00,000.Rs) ایڈوانس دینے ہوں گے ، جو کہ ابھی ہمارے پاس نہیں ہیں۔
جناب مفتی صاحب میں اور میرے اہل خانہ ان کی جھوٹی باتوں سے تنگ آچکے ہیں کیونکہ یہ مکار، جھوٹے اور لالچی قسم کے لوگ ہیں اور جانتے ہیں کہ مہر پانچ تو لہ سونا ہے اور اگر یہ طلاق لیتے ہیں تو ان کو پانچ تو لہ سو نا حق مہر ادا کرنا پڑے گا، سوال یہ ہے کہ اگر ہم طلاق لیں تو ان کو کتنا حق مہر دینا ہو گا؟ کیونکہ بیٹی کے لیے الحمد للہ دوسرے رشتے بھی موجود ہیں، جناب مفتی صاحب آپ میرے اس مسئلے کو جلد از جلد حل کر دیں تو بڑی عین نوازش ہوگی ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگر میاں بیوی کے درمیان ابھی تک خلوت (جس میں ہمبستری سے کوئی مانع موجود نہ ہو) بھی نہیں ہوئی تو طلاق ہونے کی صورت میں لڑکے کے ذمہ لڑکی کو آدھا حق مہر دینا لازم ہو گا، البتہ اگر وہ طلاق نہ دیں اور آپ ان کو طلاق دینے کے عوض حق مہر معاف کر دیں تو اس صورت میں حق مہر ساقط ہو جائے گا۔
حوالہ جات
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 321) الناشر: دار الفكر،بيروت:
(ولو طلقها قبل الدخول) أي في صورة تسمية ما دون العشرة (فلها خمسة عند علمائنا الثلاثة) ؛ لأن موجب هذه التسمية عشرة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
18/شوال المکرم1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


