| 88329 | حدیث سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
مجھے عبداللہ بن طاؤس نے خبر دی ‘ ان سے عکرمہ بن خالد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کے یہاں گیا تو ان کے سر کے بالوں سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے ۔ میں نے ان سے کہا کہ تم دیکھتی ہو لوگوں نے کیا کیا اور مجھے تو کچھ بھی حکومت نہیں ملی ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ مسلمانوں کے مجمع میں جاؤ ‘ لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا موقع پر نہ پہنچنا مزید پھوٹ کا سبب بن جائے ۔ آخر حفصہ رضی اللہ عنہا کے اصرار پر عبداللہ رضی اللہ عنہ گئے ۔ پھر جب لوگ وہاں سے چلے گئے تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا کہ خلافت کے مسئلہ پر جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے ۔ یقیناً ہم اس سے ( اشارہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف تھا ) زیادہ خلافت کے حقدار ہیں اور اس کے باپ سے بھی زیادہ ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس پر کہا کہ آپ نے وہیں اس کا جواب کیوں نہیں دیا ؟ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میں نے اسی وقت اپنی لنگی کھولی ( جواب دینے کو تیار ہوا ) اور ارادہ کر چکا تھا کہ ان سے کہوں کہ تم سے زیادہ خلافت کا حقدار وہ ہے جس نے تم سے اور تمہارے باپ سے اسلام کے لیے جنگ کی تھی ۔ لیکن پھر میں ڈرا کہ کہیں میری اس بات سے مسلمانوں میں اختلاف بڑھ نہ جائے اور خونریزی نہ ہو جائے اور میری بات کا مطلب میری منشا کے خلاف نہ لیا جانے لگے ۔ اس کے بجائے مجھے جنت کی وہ نعمتیں یاد آ گئیں جو اللہ تعالیٰ نے ( صبر کرنے والوں کے لیے ) جنتوں میں تیار کر رکھی ہیں ۔ حبیب ابن ابی مسلم نے کہا کہ اچھا ہوا آپ محفوظ رہے اور بچا لیے گئے ‘ آفت میں نہیں پڑے ۔ محمود نے عبدالرزاق سے ( نسواتها کے بجائے لفظ ) ونوساتها. بیان کیا ( جس کے معنی چوٹی کے ہیں، جو عورتیں سر پر بال گوندھتے وقت نکالتی ہیں ) ۔ اس حدیث کاکیا مطلب ہے؟ اس کی تفسیر اس کی تشریح فرما دیں۔اور اس کا خلاصہ بیان کریں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یہ روایت صحیح بخاری میں موجود ہے،امام بخاری رحمہ اللہ نے غزوہ خندق کے عنوان کے تحت ذکر کی ہے، اس حدیث کی غزوہ خندق سے یہ مناسبت ہے کہ خلفائے راشدین اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہم غزوہ خندق میں موجود تھے، جبکہ حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس وقت تک اسلام نہیں لائےتھے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث کو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد کی بنا پر پیش کیا جو انھوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ کیا تھا کہ ”آپ سے زیادہ خلافت کا حق دار وہ ہے جس نے آپ سے اور آپ کے والد سے اسلام کی سر بلندی کے لیے جنگ لڑی تھی،یعنی حضرت علی رضی اللہ عنہ ۔
راجح قول کے مطابق حدیث میں مذکور واقعہ تحکیم کے وقت کا ہے ، حدیث مذکور میں جس اجتماع کا ذکر ہے اس سے مراد حضرت علی اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین تحکیم کا واقعہ ہے ،جو صفین کے موقع پر ہوا،حضرت علی و حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان اختلاف ختم کرنے کے لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ا ورتابعین رحمہم اللہ اکٹھے ہو نے والے تھے،اس موقع پر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ بھی اس اجتماع میں شریک ہوجائیں۔انہوں نے جواب دیا:
فَلَمْ يُجْعَلْ لِي مِنَ الأَمْرِ شَيْءٌ
مجھ سے اس معاملہ کے بارے میں نہ مشورہ کیا گیا ہے اور نہ کسی قسم کی بات کی گئی ہے۔
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہاں جانے کے بارے میں اہمیت بتائی۔چنانچہ ابن عمررضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے گئے،وہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطاب کے دوران یہ جملہ کہا:
" اس معاملہ میں جسے گفتگو کرنی ہو وہ ذرا اپنا سر تو اٹھائے۔یقیناً ہم اس معاملہ میں اس سے اور اس کے باپ سے زیادہ حقدار ہیں ۔"
اب یہ جملہ کس کے بارے میں ہے؟اس بارے میں مختلف اقوال ہیں:۔
ایک قول یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ ہے ،بعض حضرات کے نزدیک حضرت حسن رضی اللہ
عنہ کے طرف اشارہ تھا،جبکہ کچھ شراح حدیث کا یہ خیال ہے کہ اس میں کسی خاص شخصیت کی تعیین کے بجائے
مطلق ایک ارشاد تھا کہ کوئی بھی شخص جو اس معاملہ میں گفتکو کرناچاہتاہے ہم اس سے زیادہ حقدار ہیں کہ یہ حق ہمیں ملنا چاہیے۔ ان حضرات کے بقول جب روایت میں کسی کا نام موجود نہیں تو اس کا مفہوم یہ ليا جائے گا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی کو خاص كيےعمومی طور پر یہ بات کہی، حضرت حسن بن على یا عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے اختلاف کا کوئی تعلق تھا ہی نہیں تو امیر معاویہ رضی اللہ عنہ انہیں کیوں مراد لے سکتے ہیں ؟
اختلاف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کے بارے میں تھا یا خلافت کے بارے میں؟تو شراح حدیث کے نزدیک اس بارے میں دونوں رائے موجود ہیں،ایک رائے یہ ہے کہ "الامر" سے مراد خلافت نہیں،بلکہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا بدلہ تھا اس معاملے میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خود كو سب سے زیادہ حق دار سمجھتے تھے ۔
دوسری رائے کے مطابق اگر خلافت کے بارے میں اختلاف مراد ہوتو اس کی توجیہ یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا خیال یہ تھا کہ خلافت کا زیادہ حقداروہ آدمی ہے جو ذی رائے ہو،چنانچہ وہ خود عرب کے مشہور مدبرین میں سے تھے۔
تاہم اہل سنت والجماعت کے نزدیک حضرت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنے فضائل،مقام ومرتبہ کے لحاظ سے ،نیزقصاص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور خلافت کے استحقاق کے معاملے میں زیادہ حقدار تھے۔
حوالہ جات
فتح الباري لابن حجر (7/ 403):
فلم يجعل لي من الأمر شيء مراده بذلك ما وقع بين علي ومعاوية من القتال في صفين يوم اجتماع الناس على الحكومة بينهم فيما اختلفوا فيه فراسلوا بقايا الصحابة من الحرمين وغيرهما وتواعدوا على الاجتماع لينظروا في ذلك فشاور ابن عمر أخته في التوجه إليهم أو عدمه فأشارت عليه باللحاق بهم خشية أن ينشأ من غيبته اختلاف يفضي إلى استمرار الفتنة
فتح الباري لابن حجر (7/ 404):
قيل أراد عليا وعرض بالحسن والحسين وقيل أراد عمر وعرض بابنه عبد الله وفيه يعد لأن معاوية كان يبالغ في تعظيم عمر .
عمدة القاري شرح صحيح البخاري (17/ 185)
فإنه ولي عثمان بن عفان والمطالب بدمه وهو أحق الناس۔
فتح الباري لابن حجر (7/ 404):
وكان رأي معاوية في الخلافة تقديم الفاضل في القوة والرأي والمعرفة على الفاضل في السبق إلى الإسلام والدين والعبادة فلهذا أطلق أنه أحق ورأي ابن عمر بخلاف ذلك وأنه لا يبايع المفضول إلا إذا خشي الفتنة ولهذا بايع بعد ذلك معاوية ثم ابنه يزيد ونهى بنيه عن نقض بيعته كما سيأتي في الفتن
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
10/ صفر 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


