03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسجد شرعی بننے سے پہلے دار الإفتاء اور مدرسے کی استثناء کا حکم
87182وقف کے مسائلمسجد کے احکام و مسائل

سوال

ایك شخص نے ہمارے ڈاكٹر صا حب كو ایك پلاٹ خیراتی ہسپتال بنانے كے لیے ہبہ كیا ۔ انہوں نے اس كی تعمیر شروع كی ، اس بلڈنگ كا تین منزلہ ابتدائی ڈھانچہ تیار ہوا ۔ پڑوس كے محلہ داروں نے اس جگہ ہسپتال بنانے كی مخالفت اور شكایت كی اور ٹاؤن كمیٹی نے ہسپتال بنانے پر پابندی لگائی ۔ ڈاكٹر صاحب نے كہا كہ ہم ویسے بھی اللہ كے رضا كےلیے ہسپتال بنارہے تھے ، ہسپتال نہ سہی مسجد بنالیتے ہیں ۔ ڈاكٹر صاحب نے اس عمارت كے پچھلے حصے میں دارالافتاء اوپر كی منزل میں اور نیچے تبلیغی جماعت كا كمرہ بنانے كی نیت كی تھی ۔ عمارت ابھی پلستر رنگ و روغن كے اعتبار سے مكمل نہیں ہوئی تھی ۔ اس میں نماز باجماعت شروع ہوئی ۔  ساتھ پلستر اور رنگ و رغن بیت الخلاء وضو خانے كی تعمیر اور انتظام بھی ہوتے رہیں ۔ باجماعت نمازاس عمارت كے گراونڈ فلور پر ہو رہی تھی ۔ سردی گرمی كے انتظامات كے پیش نظر اسی منزل كا مغربی حصہ جہاں جماعت ہوتی رہتی تھی ، پارٹیشن كركے بند كردیا گیا۔ چونكہ پانچ وقت جماعت  کی نماز كے لیے یہ حصہ محلہ كے نمازیوں كے لیے كافی تھا۔ پیچھے كے حصے میں واقف كی نیت كمرے بنانے كی تھی جو شرعی مسجد كا حصہ نہیں ہو سكتے۔ اس لیے پارٹیشن كی حد تك مغربی طرف تمام منزلوں كو شرعی مسجد قرار دے دیا گیا۔ اور مشرقی حصہ دالافتاء اور مدرسہ كے لئے متعین كیا گیا۔ اوپركی منزل اور بیسمنٹ میں دو كمرے بھی بن گئے۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے  كہ :

  1. واقف نے جو كمرے دارالافتاء اور تبلیغی جماعت كے لیے بنانے كی نیت كی اس كی شرعی حیثیت كیا ہے ؟
  2. اگر اوپر نیچے كی  منزلوں میں واقف كی نیت مسجد كے علاوہ دارالافتاء ، مدرسہ یا تبلیغی جماعت كا كمرہ بنانے  کی تھی تو مسجد كی شرعی حیثیت صحیح ہےِ ؟
  3. اگر پہلے مسجد كے نیچے اور اوپر منزلوں میں كمروں كے استثناء كی وجہ سے وقف تام نہیں ہوا تھا  تو اب كمرے اور كمروں كے راستے نكال كر بقیہ حصہ كا وقف صحیح ہو گا؟
  4. اگر مسجد كی شرعی حیثیت صحیح ہے تو مسجد كی حدود كا تعین اور كمروں كےلیےراستے كا  استثناء صحیح ہے یا نہیں؟
  5. ایك مفتی صاحب نے فرمایا ہے كہ چونكہ یہ پوری عمارت ایك ہال ہے اور وقف تام ہونے سے پہلے اس كی پارٹیشن نہیں ہوئی تھی اس لیے یہ پوری عمارت بمع كمرے اب مسجد شرعی كے حكم میں ہے ۔ كیا یہ ٹھیك ہے؟

تنقیح: سائل سے تنقیح کے بعد معلوم ہوا کہ واقف ڈاکٹر صاحب ہے اور اصل نیت مسجد کی تھی بمع دیگر کمرےعلماء کے بیٹھنے اور تبلیغی جماعت کے ٹہرنے کے لیے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسجد شرعی زمین سے لے کرآسمان کی فضا تک مسجد ہی کے حکم میں ہوتی ہے، لہٰذا مسجد شرعی کے تمام حصوں کو( خواہ مشرقی حصہ ہو یا مغربی  حصہ )مسجد کے علاوہ کسی دوسرے استعمال میں لانا صحیح نہیں ہے۔ البتہ وقف میں واقف کی نیت اور ان شرائط کا اعتبار کیا جاتا ہے جو شریعت کے مخالف نہ ہوں۔

صورت مسؤلہ میں چونکہ مسجد شرعی بننے سے پہلے واقف نے   دار الإفتاء ،مدرسہ اور تبلیغی جماعت کے لیے کمرے  بنا نے کی نیت کی تھی ،لہذا ان کی نیت کے موافق کمرے بنانا درست ہے اور یہ حصہ مفاد عامہ کے لیے وقف ہوگیا ۔ نیز جس حصے کومسجد کے لیے وقف   کیا گیا تھا  وہ حصہ مسجد کا شمار ہوگا اور ہمیشہ کے لیےوقف تام ہوگا۔

مفتی صاحب نے  جو فرمایا وہ ان سے لکھوا کرمسئلہ دریافت کریں ۔

حوالہ جات

إن شرائط الواقف معتبرة إذا لم تخالف الشرع وهو مالك فله أن يجعل ماله حيث شاء ما لم يكن معصية وله أن يخص صنفا من الفقراء وكذا سيأتي في فروع الفصل الأول أن قولهم شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به(الدر المختار مع رد المحتار:(366/4

شرط الواقف يجب اتباعه لقولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في وجوب العمل به، وفي المفهوم والدلالة(الأشباه والنظائر:(163/1

اعلم أن الاستبدال على ثلاثة وجوه: الأول: أن يشرطه الواقف لنفسه أو لغيره أو لنفسه وغيره، فالاستبدال فيه جائز على الصحيح وقيل اتفاقا. والثاني: أن لا يشرطه سواء شرط عدمه أو سكت لكن صار بحيث لا ينتفع به بالكلية بأن لا يحصل منه شيء أصلا، أو لا يفي بمؤنته فهو أيضا جائز على الأصح إذا كان بإذن القاضي ورأيه المصلحة فيه. والثالث: أن لا يشرطه أيضا ولكن فيه نفع في الجملة وبدله خير منه ريعا ونفعا، وهذا لا يجوز استبداله على الأصح المختار(الدر المختار مع رد المحتار:/4 84 (3

ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف(الفتاوى الهندية:(490/2

انس رشید ولد ہارون رشید

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

17/رمضان14446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

انس رشید ولد ہارون رشید

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب