| 88932 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میرا چھوٹا بھائی اور بھابھی امریکہ میں مقیم ہیں ۔ان کے تین بچے ہیں ۔شادی کے شروع سے ہی ان کے درمیان ناچاقی رہی ہے ۔میرے بھائی نے 2015 میں اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی ،جس کے ایک مہینہ بعد رجوع کرلیا 2018 میں اس نے پھر طلاق رجعی دی ،جس کے پندرہ دن بعد رجوع کرلیا ۔اب اکتوبر 2025 میں تیسری بار طلاق دی ہے ۔کیا میاں بیوی کےدرمیان طلاق ہوچکی ہے؟کیا طلاق رجعی میں رجوع کرنے سے مرد کو دوبارہ تین طلاق کا اختیار نہیں ہوتا؟اگر پہلی اور دوسری مرتبہ طلاق رجعی میں رجوع کرنے سے تین طلاقوں کا اختیار مرد کے پاس آچکا ہے تو اس کا مطلب میرے بھاِئی کا تیسری مرتبہ طلاق دینا )سات سال کے بعد( پہلی یعنی ایک طلاق شمار ہوگا یا نہیں ؟ایک سکالر کے بقول غصے کی حالت میں طلاق نہیں ہوتی ۔اس بیان کو سننے کے بعد میں تذبذب کا شکار ہوں ۔راہنمائی فرمائیں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
۔آپ کے بھائی نے اپنی بیوی کو مختلف اوقات میں مجموعی طور پر تین طلاقیں دی ہیں ۔جس کی وجہ سےآپ کے بھائی کے لیےاس کی بیوی حرام ہوگئی، اب رجوع یا تجدید نکاح کی گنجائش نہیں ہے ۔
۲۔طلاق رجعی میں رجوع کرنے سے مرد کو دوبارہ تین طلاقوں کا اختیار نہیں ملتا بلکہ باقی ماندہ کا اختیار ہوتا ہے ،یعنی اگر ایک طلاق دی پھر رجوع کرلیا تو باقی دو طلاقوں کا اختیار رہ جاتا ہے ۔
۳۔یاد رہے کہ طلاق غصے میں ہی دی جاتی ہے۔اس لیے یہ کہنا کہ غصے میں طلاق نہیں ہوتی غیر معقول ہے۔صرف غصے کا وہ درجہ جس میں دماغ ماف ہوچکا ہو کہ یہ تمیز بھی نہ رہے کہ اس کے منہ سے کیا الفاظ نکل رہے ہیں ؟یا جو الفاظ نکل رہے ہیں ان کا معنی و مطلب کیا ہے؟ اگر یہ جنونی کیفیت طاری ہو اور یہ حالت اس کے بارے میں معروف بھی ہو کہ اس پر یہ کیفیت طاری ہوتی ہے تو اس حالت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حوالہ جات
معالم السنن )(3/ 243(:
قال أبو داود: حدثنا القعنبي، قال: حدثنا عبد العزيز، يعني ابن محمد عن عبد الرحمن بن حبيب عن عطاء بن أبي رباح عن ابن ماهك، عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ثلاث جدهن جد وهزلهن جد النكاح والطلاق والرجعة.
قال الشيخ اتفق عامة أهل العلم على أن صريح لفظ الطلاق إذا جرى على لسان البالغ العاقل فإنه مؤاخذ به ولا ينفعه أن يقول كنت لاعبا أو هازلا أو لم أنو به طلاقا أو ما أشبه ذلك من الأمور.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي) 4/ 177(:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاغيره نكاحاصحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها) والأصل فيه قوله تعالى {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره}
الاختيار لتعليل المختار) 3/ 124(:
قال: (وكذلك اللاعب بالطلاق والهازل به) لقوله عليه الصلاة والسلام: «ثلاث جدهن جد وهزلهن جد: ويعم هذه الفصول كلها قوله عليه الصلاة والسلام: «كل طلاق واقع» الحديث.ملتقى الأبحر (ص87)
ولا تحل الحرة بعد الثلاث ولا الأمة بعد الثنتين إلا بعد وطىء زوج آخر بنكاح صحيح و مضی عدتہ.
)حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلب) (3/ 244(:
قال العلامہ ابن عابدین :وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش.
رد المحتار،(244/3) :
قال العلامة ابن عابدين رحمه الله : ينبغي التعويل عليه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته.. وقال : سئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برھان.
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
12/جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


