03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہرکےعلیحدہ گھر نہ دینے پر عدالتی خلع کا حکم(جدید)
90355طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرا نکاح فلاں ......... سے ہوا، شادی کے بعد ہی ساس نے طعنے دینا شروع کر دیے تھے، جہیز وغیرہ کے طعنے دیتی، سب سے اہم بات یہ کہ ساس میرے اوپر سسر کے ساتھ غلط شک کرتی تھی، میرے شوہر کو سب باتیں معلوم تھیں، مگر وہ اس کی طرف توجہ نہیں دیتے تھے، بلکہ جب بھی ہمارے درمیان لڑائی ہوتی تو وہ کہتے کہ میں تمہیں چھوڑ دوں گا، مجھے چور اور لالچی بھی کہا گیا، ایک مرتبہ شوہر نے میرے منہ پر تھپڑمارا، اس کے بعد میں اپنے والد کے گھر آگئی، کچھ دنوں کے بعد جب میں اپنے کپڑے لینے گئی تو میں نے سسر سے الگ گھر کی بات کی، کہ میں یہاں نہیں رہ سکتی، اس پر شوہر نے کہا تم نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماری ہے، سسر سے بات کے دوران ساس نے مجھے کہا کہ میرے ہوتے ہوئے ان سے بات کیوں کرتی ہو، ان کو اپنے کمرے میں لے جاؤ، مجھے اس پر بہت دکھ ہوا، مگر شوہر نے اس پر کچھ نہ کہا۔ الٹا مجھے کہا کہ آئندہ اس گھر میں اپنی شکل مت دکھانا، میں اپنے والد کے گھر آگئی۔ کچھ عرصہ بعد میرا حق مہر بھیج دیا۔

میرے والد بہت دفعہ سسر کی دکان پر گئے کہ کسی طرح بات بن جائے، مگر وہ نہیں آئے، ایک سال کا عرصہ گزر گیا تو شوہر ہمارے گھر آئے، مگر علیحدہ گھر کے لیے نہیں مانے، بحث کے دوران میرے بھائی نے کہا کہ پرانی باتیں چھوڑو، تم دونوں علیحدہ بات کرلو، مگر شوہرکہنے لگے، اب کوئی فائدہ نہیں اور اٹھ کر چلے گئے، میرے والد نے کہا کہ پھر پیپر بھجوا دو، اگلے دن شوہر کا میسج آیا کہ میں تو طلاق کے حق میں نہیں تھا، مگر اب آپ کے والد نے کہا ہے تو عدالت سے جا کر لے لو۔ پھر ایک سال تک کوئی رابطہ نہ کیا، اس كےبعدہم نے عدالت میں کیس دائر کیا، اس دوران بھی میں نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح بات ن جائے، مگر شوہر نے بات نہ سنی، شوہر خود عدالت حاضر ہوئے اوراس نے جج کے سامنے  کہا میں الگ گھر نہیں دے سکتا، عدالت نے دو مرتبہ مہلت دی، پری ٹرائل میں بھی شوہر نے علیحدہ گھر دینے سے انکار کیا،  فیصلے کے دن شوہر حاضر نہ ہوا، بلکہ کسی لڑکے کو بھیجا کہ جج سے مزید ایک ماہ کی مہلت لے آؤ، مگرعدالت پہلے ہی تین ماہ کی مہلت دے چکی تھی، اس لیے اس نے مہلت نہ دی اور خلع کی ڈگری جاری کر دی۔

وضاحت: سائلہ کے بھائی نے بتایا کہ ساس شروع سے ہی سسر کے ساتھ غلط شک کر رہی تھی، اسی طرح تقریباً ڈیڑھ دو سال گزرے، گھر کا ایک ہی کچن تھا، اسی میں والدین کا کھانا  بنتا تھا اور اس میں ہماری بہن  اپنا کھاناعلیحدہ بناتی تھی،گھر میں واش روم بھی ایک ہی تھا، جس کو سب گھر والے استعمال کرتے تھے، باقی دو چھوٹے چھوٹے کمرے تھے، ایک میں ساس ،سسر اور دوسرا ہماری بہن کے پاس تھا، اس لیے بہن نے علیحدہ گھر کا مطالبہ کیا، جج کے سامنے بھی یہی بات پیش کی،مگرشوہر اس پر تیار نہ ہوا۔باقی عورت کا تعلق متوسط درجہ کے خاندان سے ہے، اس کے پاس تین تولہ سونا ہے اور خود انجینئرنگ کی ہوئی ہے اور شادی سے پہلے جاب بھی کرتی تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی وضاحت کے مطابق مذکورہ عورت مالی اعتبار سے متوسط درجے کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق شرعی اعتبار سے ایسی عورت کو کم سے کم ایک کمرہ، کچن اورواش روم علیحدہ دینا ضروری ہے، جس میں لڑکے کے گھر والوں  میں سےکسی کی مداخلت نہ ہو  ، جبکہ سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق لڑکی کو ایسی رہائش فراہم نہیں کی گئی تھی، بلکہ گھر میں ایک ہی کچن اور ایک ہی واش روم تھا، جس کو شوہر کے والدین سمیت سب استعمال کرتے تھے، اس لیے لڑکی کا علیحدہ رہائش کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز تھا، خصوصا جبکہ اس پر سسر کے ساتھ غلط شک بھی کیا جا رہا تھا،لیکن جب عدالت کی جانب سے شوہر سے لڑکی کو علیحدہ گھردینے کا مطالبہ کیا گیا تو شوہر نے عدالت کے سامنے لڑکی کوعلیحدہ گھر دینے سے صراحتاً  انکار کر دیا، جس سے جج کے سامنے شوہر کا تعنّت(ہٹ دھرمی) ثابت ہو گیا، لہذا اس تعنّت کی بناء پر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا فیصلہ شرعاً معتبر ہے اور فیصلہ میں لکھے گئےخلع کے الفاظ کو فسخِ نکاح پر محمول کیا جائے گا، جس کی وجہ سے فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو چکا ہے اور فیصلہ جاری ہونے کی تاریخ سے عورت کی عدت شروع ہو چکی ہے، عدت ختم ہونے پر عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔

جہاں تک فیصلہ کی مجلس میں شوہر کے حاضر نہ ہونے کا تعلق ہے تو اس سے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ شوہر پہلی دو تاریخوں میں عدالت میں حاضر ہو چکا تھا اور لڑکی کو علیحدہ رہائش دینےکے حوالے سے عدالت کے سامنے اپنا بیان بھی دے چکا تھا، جب عدالت کے سامنے اس کی جانب سے عورت کوعلیحدہ رہائش نہ دینے کا موقف واضح ہو گیا تو اب اس کو قضاء علی الغائب نہیں شمار نہیں کیا جائے گا، چنانچہ مجلة الاحکام العدلیہ میں

تصریح ہے کہ اگر کسی شخص نے کسی پر کوئی دعوی کیا اور مدعی علیہ نے اس کا عدالت کے سامنے اقرار کر لیا، پھر فیصلہ ہونے سے پہلے مدعی علیہ عدالت سے غائب ہو گیا تو قاضی کے لیے اس کے اقرار کی بناء پر اس کی عدم موجودگی میں اس کے خلاف فیصلہ کرنا شرعاًجائز ہے۔

حوالہ جات

مجلة الأحكام العدلية (ص: 372)  نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1830) يشترط حضور الطرفين حين الحكم يعني يلزم عند النطق بالحكم بعد إجراء محاكمة الطرفين مواجهة حضورهما في مجلس الحكم , ولكن لو ادعى أحد على آخر خصوصا وأقر به المدعى عليه ثم غاب قبل الحكم عن مجلس الحكم فللقاضي أن يحكم في غيابه بناء على إقراره , كذلك لو أنكر المدعى عليه دعوى المدعي , وأقام المدعي البينة في مواجهة المدعى عليه ثم غاب المدعى عليه عن مجلس الحكم أو توفي قبل التزكية والحكم فللقاضي أن يزكي البينة ويحكم بها.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(668/4) الناشر: دار الجيل:

لو ادعى أحد على آخر خصوصا وأقر به المدعى عليه ثم غاب قبل الحكم عن مجلس الحكم فللقاضي أن يحكم في غيابه بناء على إقراره أي يلزم الغائب المقر بإقراره لأنه في حالة إقرار المدعى عليه بدعوى المدعي لا يكون القضاء والحكم قضاء في نفس الأمر بل يكون في الحقيقة إعانة للمقضي له.

تبيين الحقائق وحاشية الشلبي (3/ 58)  المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

(والسكنى في بيت خال عن أهله وأهلها) أي تجب لها السكنى في بيت ليس فيه أحد من أهله، ولا من أهلها إلا أن يختارا ذلك لأن السكنى حقها إذ هي من كفايتها فتجب لها كالنفقة، وقد أوجبها الله تعالى مقرونا بالنفقة بقوله {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: 6] أي وأنفقوا عليهن من وجدكم، وهكذا قرأها ابن مسعود، وإذا كان حقا لها فليس له أن يشرك غيرها فيها كالنفقة، وهذا لأن السكنى مع الناس يتضرران بها فإنهما لا يأمنان على متاعهما، ويمنعهما من الاستمتاع.

رد المحتار : (3/ 601) الناشر: دار الفكر-بيروت:

قلت: وفي البدائع: ولو أراد أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وأخته وبنته فأبت ،فعليه أن يسكنها في منزل منفرد؛ لأن إباءها دليل الأذى والضرر ،ولأنه محتاج إلى جماعها ومعاشرتها في أي وقت يتفق لا يمكن ذلك مع ثالث؛ حتى لو كان في الدار بيوت وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا ليس لها أن تطالبه بآخر. اهـ فهذا صريح في أن المعتبر عدم وجدان أحد في البيت لا في الدار. ................ ففي الشريفة ذات اليسار لا بد من إفرادها في دار، ومتوسط الحال يكفيها بيت واحد من دار. ومفهومه أن من كانت من ذوات الإعسار يكفيها بيت ولو مع أحمائها وضرتها كأكثر الأعراب وأهل القرى وفقراء المدن الذين يسكنون في الأحواش والربوع، وهذا التفصيل هو الموافق لما مر من أن المسكن يعتبر بقدر حالهما، ولقوله تعالى : {أسكنوهن من حيث سكنتم من وجدكم} [الطلاق: 6]   .

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 600) دار الفكر-بيروت:

(بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر.

قال ابن عابدين: (قوله زاد في الاختيار والعيني) ومثله في الزيلعي، وأقره في الفتح بعدما نقل عن القاضي الإمام أنه إذا كان له غلق يخصه وكان الخلاء مشتركا ليس لها أن تطالبه بمسكن آخر (قوله ومفاده لزوم كنيف ومطبخ) أي بيت الخلاء وموضع الطبخ بأن يكونا داخل البيت أو في الدار لا يشاركها فيهما أحد من أهل الدار. قلت: وينبغي أن يكون هذا في غير الفقراء الذين يسكنون في الربوع والأحواش بحيث يكون لكل واحد بيت يخصه وبعض المرافق مشتركة كالخلاء والتنور وبئر الماء ويأتي تمامه قريبا.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 210) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

في شرح المختار ولو كان في الدار بيوت وأبت أن تسكن مع ضرتها أو مع أحد من أهله إن أخلى لها بيتا وجعل له مرافق وغلقا على حدة ليس لها أن تطلب بيتا، كذا في فتح القدير وهو يفيد أنه لا بد للبيت من بيت الخلاء ومن مطبخ بخلاف ما في الهداية وينبغي الإفتاء بما في شرح المختار ويشترط أن لا يكون في الدار أحد من أحماء الزوج يؤذيها كما في الخانية، قالوا للزوج أن يسكنها حيث أحب، ولكن بين جيران صالحين، ولو قالت إنه يضربني ويؤذيني فمره أن يسكنني بين قوم صالحين فإن علم القاضي ذلك زجره عن التعدي في حقها وإلا يسأل الجيران عن صنيعه فإن صدقوها منعه عن التعدي في حقها ولا يتركها ثمة وإن لم يكن في جوارها من يوثق به أو كانوا يميلون إلى الزوج أمره بإسكانها بين قوم صالحين اه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

21/ذوالقعدة1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب