| 87300 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
یہ سب باتیں میرے امریکہ آنے کے بعد، سن 2023 میں شروع ہوئیں۔ اس سے پہلے ہمارے معاملات ٹھیک تھے۔ یہاں آنے کے بعد کچھ ایسی باتیں معلوم ہوئیں جن کی وجہ سے ہمارے تعلقات خراب ہونے لگے۔
سب سے پہلے میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ میں واپس پاکستان چلی جاؤں، اپنے والدین کے گھر۔ یہ بات انہوں نے تقریباً تین سے چار مرتبہ کہی۔ کچھ وقت کے بعد معاملات کچھ بہتر ہو گئے، لیکن ایک مہینے بعد مزید ایسی باتیں سامنے آئیں جن سے دوبارہ تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
میرے شوہر نے اگرچہ مجھے براہِ راست کچھ نہیں کہا، لیکن اپنی بہن اور ماموں سے یہ بات کی کہ "میں اس عورت کو دل سے طلاق دے چکا ہوں، اب یہ صرف میرے بچے کی ماں ہے، اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔" یہ بات بھی انہوں نے مختلف مواقع پر، صرف دو دن کے اندر، تین سے چار بار مختلف لوگوں سے کہی۔ وہ مجھے بار بار پاکستان جانے کو کہتے رہے۔
ایک مرتبہ تو بات یہاں تک پہنچ گئی کہ ہم دونوں نے الگ ہونے کا فیصلہ بھی کر لیا۔ پھر کچھ مہینے معاملات نسبتاً ٹھیک رہے۔ تاہم، میرے شوہر نے مختلف مواقع پر مجھے یہ کہا: "میں ابھی تمہیں تین لفظ بول کر فارغ کر دوں گا، ابھی طلاق دے دوں گا۔"
کئی مرتبہ مجھ سے کہا گیا: "اپنی شکل نہ دکھاؤ، تم سے میرا کوئی تعلق نہیں۔" کچھ عرصے بعد یہ بھی کہا گیا: "اگر پاکستان نہیں گئیں تو ابھی کے ابھی تین لفظ بول کر فارغ کر دوں گا۔"
میرے والد سے بھی یہ بات کہی گئی: "میں آپ کی بیٹی کا فیصلہ کر دوں گا۔" اور ابھی کل ہی مجھے تین مرتبہ یہ کہا گیا: "میں تمہیں فارغ کرتا ہوں، تم بس دنیا کے سامنے میری بیوی بن کر رہو، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔"
اور ایک اہم بات یہ ہے کہ میرے شوہر نے مجھ سے رجوع بھی نہیں کیا — پچھلے آٹھ مہینوں سے نہ انہوں نے رجوع کیا ہے، نہ مجھے رجوع کرنے دیا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسئولہ صورت میں اگر شوہر نے اپنے پہلے جملے "چلی جاؤ" سے طلاق کا ارادہ کیا ہو، اور دوسرے جملے "میں اس
عورت کو دل سے طلاق دے چکا ہوں" سے نئی طلاق کا ارادہ نہ کیا ہو بلکہ اس کا مقصد صرف سابقہ طلاق کی خبر دینا ہو، تو ایسی صورت میں ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی ہے۔ اس لیے کہ بائن کے بعد دوسری بائن لاحق نہیں ہوتی۔ لہٰذا آنے والے جملے جیسے "فارغ" وغیرہ سے کوئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی۔ لہٰذا اس صورت میں گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے، تاہم شوہر کو آئندہ دو طلاقوں کا اختیار حاصل رہے گا۔
اور اگر شوہر نے اپنے اس جملے "میں اس عورت کو دل سے طلاق دے چکا ہوں" سے نئی طلاق واقع کرنے کا ارادہ کیا ہو، سابقہ طلاق کی خبر دینا اس کا مقصد نہ ہو تو پھر سابقہ جملہ "چلی جاؤ" اور اس جملے "میں اس عورت کو دل سے طلاق دے چکا ہوں" سے مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے۔ اس لیے کہ پہلے جملے سے طلاقِ بائن واقع ہوئی اور دوسرے جملے سے صریح طلاق، جو کہ بائن کو لاحق ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اس صورت میں جب تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، تو بغیر حلالہ کے نہ دونوں کا نکاح ہوسکتا ہے اور نہ ہی رجوع ممکن ہے۔
اگر پہلے جملے "چلی جاؤ" سے شوہر کا طلاق دینے کا ارادہ نہ ہو اور دوسرے جملے "میں اس عورت کو دل سے طلاق دے چکا ہوں" سے صرف خبر دینا مقصود نہ ہو بلکہ طلاق دینا شوہر کا مقصد ہو، تو تب بھی تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گی، اس لیے کہ یہ صریح جملہ اس نے تین سے چار بار کہا ہے، لہٰذا اس صورت میں بھی حلالہ کے بغیر نکاح اور رجوع ممکن نہ ہوگا۔
اور اگر پہلے جملے "چلی جاؤ" سے بھی شوہر کا طلاق دینے کا ارادہ نہ ہو اور دوسرے جملے "میں اس عورت کو دل سے طلاق دے چکا ہوں" سے صرف خبر دینا مقصود ہو، طلاق دینا مقصود نہ ہو تو پھر آنے والے جملے "میں تمہیں فارغ کرتا ہوں" سے اگر طلاق کی نیت ہو تو ایک طلاقِ بائن واقع ہوگی اور گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح ہوسکے گا۔
شوہر کو چاہیے کہ وہ اپنی قبر اور آخرت کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جو بھی حقیقی صورتِ حال ہو، اس پر عمل کرے، اور غیر حقیقی صورتِ حال کو اختیار کر کے اپنی عاقبت خراب نہ کرے۔
حوالہ جات
الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (2/ 36)
اذهبي وقومي واستتري وتقنعي واخرجي والحقي بأهلك وحبلك على غاربك ولا نكاح بيني وبينك وأشباه ذلك فإن نوى بها الطلاق وقع بائنا وإن نوى ثلاثا فثلاث وإن لم ينو لا يكون طلاقا سواء كانا في حالة الرضا أو الغضب أو مذاكرة الطلاق.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 264)
في فتح القدير ولو أقر بالطلاق وهو كاذب وقع في القضاء اهـ. وصرح في البزازية بأن له في الديانة إمساكها إذا قال أردت به الخبر عن الماضي كذبا، وإن لم يرد به الخبر عن الماضي أو أراد به الكذب أو الهزل وقع قضاء وديانة.
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 370)
الصريح يلحق (البائن) أي إذا أبانها، ثم قال أنت طالق يقع الطلاق؛ لأنه تعالى قال {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] يعني الخلع، ثم قال {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] والفاء للتعقيب مع الوصل، فيكون هذا نصا على وقوع الثالثة بعد الخلع الذي هو طلاق بائن، وقد حقق هذا في التلويح.
الفتاوى الهندية - (ج 10 / ص 196):
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز .أما الإنزال فليس بشرط للإحلال.
أحكام القرآن للجصاص( ج: 5 ص: 415 ):
قوله تعالى: ( فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ) منتظم لمعان: منها تحريمها على المطلق ثلاثا حتى تنكح زوجا غيره، مفيد في شرط ارتفاع التحريم الواقع بالطلاق الثلاث العقد والوطء جميعا.
وفی "الدر المختار " (3/ 308):
"(قوله لا يلحق البائن البائن) المراد بالبائن الذي لا يلحق هو ما كان بلفظ الكناية لأنه هو الذي ليس ظاهرا في إنشاء الطلاق كذا في الفتح، وقيد بقوله الذي لا يلحق إشارة إلى أن البائن الموقع أولا أعم من كونه بلفظ الكناية أو بلفظ الصريح المفيد للبينونة كالطلاق على مال".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
22/10/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


