03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زرعی ادویات کی خریدفروخت میں بیع عینہ کی ایک صورت کا حکم
90094خرید و فروخت اور دیگر معاملات میں پابندی لگانے کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

ہم زرعی کھاد اور ادویات کی خرید و فروخت کا کاروبار کرتے ہیں، ہمارے سامنے ایک معاملہ آیا ہے، جس کی شرعی حیثیت معلوم کرنا چاہتے ہیں: ایک فریق خریدار) ہم سے کھاد خریدتا ہے اور ہمیں اس کی مکمل قیمت ادا کرتا ہے،ہم اسے کھاد دے دیتے ہیں اور وہ اس کا مالک بن جاتا ہے،پھرہم وہی کهاد دوباره  ادھار زیادہ قیمت پر خرید لیتے ہیں اورکچھ عرصہ مثلاً ایک ماہ یا اس سے کم کے بعد ہم وہ کھاد  کسی دوسرے کو فروخت کرتے ہیں اور جو منافع حاصل ہوتا ہے وہ پہلے خریداریعنی پہلی پارٹی کو دے دیتے ہیں، اس سلسلے میں درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:

اگر یہ معاملہ شروع سے اس نیت یا شرط کے ساتھ کیا جائے کہ ہم بعد میں یہی مال واپس خرید لیں گےتو کیا یہ شرعاً جائز ہے؟اوراگر کوئی پیشگی شرط نہ ہو، بلکہ پہلی خرید و فروخت مکمل ہونے کے بعد علیحدہ طور پر دوسرا سودا کیا جائےتو کیا اس صورت میں یہ معاملہ درست ہوگا؟اس پورے طریقہٴ کار میں کون سی شرائط اور احتیاطیں ضروری ہیں، تاکہ یہ معاملہ شریعت کے مطابق ہو اور کسی ناجائز صورت مثلاً سود یا بیع العینہ میں داخل نہ ہو ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کیا گیا معاملہ دو وجہ سے ناجائز ہے:

پہلی وجہ: آپ کا خریدار کو کھاد بیچنا اور پھر ادھار زیادہ قیمت پر اس سے واپس کھاد خریدنا جائز نہیں، خواہ واپس خریدنا پہلے سے مشروط ہو یا نہ، بہر صورت جب فریقین کے علم میں ہو کہ یہ کھاد پہلے شخص کو ہی واپس بیچی جائے گی تو شرعاً یہ خریدوفروخت  ناجائز ہی ہوگی، کیونکہ یہ بیع عینہ کی عکس صورت ہے، جس سے مقصود ادھار پر نفع حاصل کرنا ہے، جو کہ شرعاً سود کے زمرے میں آتا ہے، جس کی تفصیل یہ ہے کہ خریدار نے مثلاً پانچ ہزار کی کھاد خریدی اور پھر ثمن ادا کرنے کے بعد واپس وہی کھاد آپ کو ادھار چھ ہزار روپے میں فروخت کر دی تو گویا اس نے آپ کو پانچ ہزار روپیہ دے کر چھ ہزار روپیہ لینا طے کر لیا،لہذا اس صورت میں  واضح طور پر سود کا شبہ پایا جاتا ہے اور سود کے باب میں شبہِ ربا حقیقتِ ربا کے حکم میں ہوتا ہے، اس لیے یہ صورت مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے۔

دوسری وجہ: آپ کا خریدار سے  واپس اس شرط کے ساتھ کھاد خریدنا کہ  مارکیٹ میں کسی دوسرے شخص کو بیچ کر حاصل شدہ نفع فریقین آپس میں تقسیم کریں گے تو یہ شرط  بھی شرعاً ناجائز اور فاسد ہے، اس لیے اس معاملے کو ختم کرنا ضروری ہے، نیز خلافِ شرع خریدوفروخت کرنے پر فریقین کا اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کے لیے اس طرح کے معاملات سے اجتناب کرنا بھی لازم ہے۔  

جہاں تک اس کی جائز صورت کا تعلق ہے تو بطورِ کاروبار شرائط کے ساتھ بھی مذکورہ طریقہٴ کار کی اجازت نہیں دی جا سکتی، کیونکہ خریدی گئی چیز کا واپس فروخت کنندہ کے پاس جانے کا جب فریقین کو علم ہو گا تو معاملہ ناجائز ہی ہو گا، اگرچہ بیچ میں کسی تیسرے شخص کو داخل کر لیا جائے۔ لہذا بہتر یہ ہے کہ شریعت نے کاروبار کرنے کے شرکت، مضاربت اورمرابحہ وغیرہ کے جو طریقے بتائے ہیں ان کے مطابق آپ کاروبار کرکے نفع حاصل کر سکتے ہیں، ان کی تفصیل جاننے کے لیے دوبارہ دارالافتاء سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔  

حوالہ جات

مجمع الأنھر فی ملتقی الأبحر (کتاب الکفالة  2/ 140، ط: دار إحياء التراث العربي) :

"وفي العناية: ومن الناس من صور للعينة صورة أخرى وهو أن يجعل المقرض والمستقرض بينهما ثالثا في الصورة التي ذكرها صاحب الهداية فيبيع صاحب الثوب الثوب باثنتي عشرة من المستقرض، ثم إن المستقرض يبيعه من الثالث بعشرة، ويسلم الثوب إليه، ثم يبيع الثالث الثوب من المقرض بعشرة ويأخذ منه عشرة ويدفعه إلى المستقرض فيندفع حاجته.وإنما توسطا بثالث احترازا عن شراء ما باع بأقل مما باع قبل نقد الثمن

رد المحتار: (کتاب الکفالۃ: مطلب بیع العینۃ:7/655، رشیدیۃ):

بیع العین بالربح نسیئۃ لیبیعھا المستقرض بأقل؛ لیقضي دینہ، اخترعہ أکلۃ الربا، وھو مکروہ مذموم شرعا؛ لما فیہ من الإعراض عن مبرۃ الإقراض...... ثم قال في الفتح ما حاصله: إن الذي يقع في قلبي أنه إن فعلت صورة يعود فيها إلى البائع جميع ما أخرجه أو بعضه كعود الثوب إليه في الصورة المارة وكعود الخمسة في صورة إقراض الخمسة عشر فيكره يعني تحريما.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 12) الناشر: دار الفكر،بيروت:

(النقدية أوجبت فضلا في المالية) حتى تعورف البيع بالحال بأنقص منه بالمؤجل (فتتحقق) بوجوده (شبهة) علة (الربا) فتثبت شبهة الربا (وشبهة الربا مانعة كحقيقة الربا) بالإجماع على منع بيع الأموال الربوية.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

3/ذوالقعدة1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب