| 87263 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ میرا ایک بیٹا ہے جو آٹھ ماہ کا ہے جب سے وہ پیدا ہوا ہے میرے شوہر نے میرے پاس آنا چھوڑ دیا ہے،کہتے ہیں:یہ گندا کام ہے،میں نے نہیں کرنا،بچوں میں وقفے کے لئے کم از کم تین سال تمہارے پاس نہیں آؤں گا،یہ فیصلہ انہوں نے اپنی مرضی سے کیا ہے،مجھ سے پوچھا تک نہیں اور کہا کہ اگر تمہارا یہ گندا کام کرنے کو دل کرتا ہے تو میں نہیں کروں گا۔
اس بارے میں اسلام کی کیا تعلیمات ہے؟کیا بچوں میں وقفے کا یہی صحیح طریقہ ہے؟ اور اگر کرنا ہے تو کتنے دن بعد میاں بیوی مل سکتے ہیں؟اسلام میں کتنے دن بیوی سے دور رہنا جائز ہے اور اس کا میرے شوہر کو کتنا گناہ ہے اور اس کی آخرت میں کیا سزا ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت میں شوہر کو بیوی کے ساتھ حسن سلوک اور حسن معاشرت کی تاکید کی گئی ہے، چنانچہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :" تم میں بہترین شخص وہ ہے جو اپنے اہل وعیال (بیوی، بچوں، اقرباء اور خدمت گزاروں) کے حق میں بہترین ہو، اور میں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔
اور بیوی کے ساتھ حسن سلوک اور حسن معاشرت میں جیسے شوہر کے ذمے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ اور اس کے نان نفقہ کا انتظام شامل ہے ویسے ہی اس کی جنسی خواہش کی تسکین بھی شوہر کے ذمے لازم ہے، یہی وجہ ہے کہ فقہاءِ کرام نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ جیسے شوہر کی جانب سے جنسی تسکین کے مطالبے کو پورا کرنا بیوی پر لازم ہے، بشرط یہ کہ کوئی شرعی مانع نہ ہو، بالکل اسی طرح بیوی کی جانب سے جنسی تسکین کے مطالبہ یا خواہش پر اس کےمطالبے کو پورا کرنا بھی شوہر پر واجب ہے، لہذا بچوں کے درمیان وقفے کے لئے آپ کے شوہر کا مذکورہ طرز عمل اختیار کرنا شرعا جائز نہیں ہے،بلکہ آپ کی حق تلفی ہے اور کسی کی حق تلفی گناہ کبیرہ ہے،جس سے احتراز از حد ضروری ہے۔
تاہم اس حوالے سے شریعت نے کسی خاص مدت کی تعیین نہیں کی،بلکہ اسے میاں بیوی کی باہمی رضامندی اور منشا پر چھوڑا ہے،لیکن بغیر کسی عذر کے ساتھ رہتے ہوئے اتنا عرصہ بیوی سے دوری اختیار کرنا بہرحال جائز نہیں جس کی وجہ سے اس کے فتنے میں ابتلاء کا اندیشہ ہو اور کسی معقول عذر( خاتون کی صحت کمزور ہو یا پہلے سے موجود بچے کی صحت خراب ہونے یا اس کی تربیت میں خلل واقع ہونے کا اندیشہ ہو، وغیرہ وغیرہ) کی بناء پر بچوں میں وقفے کے لئے عارضی طور پر مانع حمل تدابیر اختیار کی جاسکتی ہیں۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (3/ 202):
"قال في الفتح: واعلم أن ترك جماعها مطلقا لا يحل له، صرح أصحابنا بأن جماعها أحيانا واجب ديانة، لكن لا يدخل تحت القضاء والإلزام إلا الوطأة الأولى ولم يقدروا فيه مدة.
ويجب أن لا يبلغ به مدة الإيلاء إلا برضاها وطيب نفسها به. اهـ. قال في النهر: في هذا الكلام تصريح بأن الجماع بعد المرة حقه لا حقها. اهـ. قلت: فيه نظر، بل هو حقه وحقها أيضا، لما علمت من أنه واجب ديانة.
قال في البحر: وحيث علم أن الوطء لا يدخل تحت القسم فهل هو واجب للزوجة وفي البدائع: لها أن تطالبه بالوطء؛ لأن حله لها حقها، كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب عليه ويجبر عليه في الحكم مرة والزيادة تجب ديانة لا في الحكم عند بعض أصحابنا وعند بعضهم تجب عليه في الحكم. اهـ.
وبه علم أنه كان على الشارح أن يقول :ويسقط حقها بمرة في القضاء أي لأنه لو لم يصبها مرة يؤجله القاضي سنة ثم يفسخ العقد. أما لو أصابها مرة واحدة لم يتعرض له؛ لأنه علم أنه غير عنين وقت العقد، بل يأمره بالزيادة أحيانا لوجوبها عليه إلا لعذر ومرض أو عنة عارضة أو نحو ذلك وسيأتي في باب الظهار أن على القاضي إلزام المظاهر بالتكفير دفعا للضرر عنها بحبس أو ضرب إلى أن يكفر أو يطلق وهذا ربما يؤيد القول المار بأنه تجب الزيادة عليه في الحكم فتأمل".
"بدائع الصنائع " (2/ 331):
"وللزوج أن يطالبها بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب مانعة من الوطء كالحيض والنفاس والظهار والإحرام وغير ذلك، وللزوجة أن تطالب زوجها بالوطء؛ لأن حله لها حقها كما أن حلها له حقه، وإذا طالبته يجب على الزوج، ويجبر عليه في الحكم مرة واحدة والزيادة على ذلك تجب فيما بينه، وبين ﷲ تعالى من باب حسن المعاشرة واستدامة النكاح، فلا يجب عليه في الحكم عند بعض أصحابنا، وعند بعضهم يجب عليه في الحكم".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
23/شوال1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


