03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق کے بعد طلاق اور جائیداد کے مطالبے کا حکم
87238طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرا نام سمیہ ہے۔ میری شادی کو چودہ سال گزر چکے ہیں۔ میں آپ کے سامنے اپنے ازدواجی حالات بیان کرنا چاہتی ہوں تاکہ شرعی رہنمائی حاصل کر سکوں۔

میرے شوہر ایک بینک میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ شادی کے بعد سے وہ گھریلو اخراجات جیسے راشن، بچوں کی بنیادی ضروریات، ان کے کپڑوں اور گھریلو بلوں کی ادائیگی کرتے تھے۔ تاہم، میرے ذاتی اخراجات اور بچوں کی تعلیم و تربیت کی مکمل ذمہ داری میرے ہی کندھوں پر ڈال دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ اضافی اخراجات برداشت نہیں کر سکتے اور نہ ہی وہ میری کسی مالی ضرورت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ان کے بقول، انہوں نے اسی لیے جاب کرنے والی لڑکی سے شادی کی تھی۔

ان چودہ برسوں میں میں نے ہر طرح سے اس رشتے کو نبھانے کی کوشش کی۔ لیکن اس دوران مجھے بارہا ان کی جانب سے گالم گلوچ اور مسلسل یہ طعنہ سننا پڑا کہ وہ دوسری شادی کریں گے۔ (حالانکہ میں 2018 اور 2019 میں دوسری شادی کی اجازت دے چکی تھی)۔ ازدواجی معاملات کی شکایات وہ اپنے بھائی اور بہنوئی سے بھی کرتے رہے، جس سے میری عزتِ نفس کو سخت ٹھیس پہنچی۔

میں ایک ملازمت پیشہ خاتون ہوں۔ ملازمت، گھریلو ذمہ داریاں، بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر امور کی انجام دہی کے ساتھ ازدواجی تعلقات قائم نہیں رکھ پاتی تھی۔ شوہر کا تحقیر آمیز اور سخت رویہ مجھے ان کی طرف مائل نہیں ہونے دیتا تھا۔

دینی لحاظ سے بھی ان کے رویے افسوسناک تھے۔ وہ نہ نماز کے پابند ہیں، نہ روزے رکھتے ہیں۔ اگر میں ان سے اصرار کرتی تو مجھے ڈانٹ دیتے تھے۔ ان کے اہلِ خانہ میں بھی کسی کو نماز،روزہ سے کوئی دلچسپی نہیں۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق دولت اولاد اور بیوی کے نصیب سے ہوتی ہے۔ میری دو اولادوں کی بدولت آج ان کے پاس دو فلیٹ موجود ہیں۔ لیکن ان کا رویہ ہمیشہ ایسا رہا کہ وہ مجھے اور بچوں کو گھر سے نکالنے کی دھمکیاں دیتے رہے۔ گھر کا ماحول مستقل کشیدہ رہا۔ چنانچہ اگست میں، مسلسل تلخیوں ،بار بار گھر سے باہر نکالنے اور گھر کا ماحول خراب رہنے کی وجہ سے  میں نے طلاق کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے 13 اکتوبر 2024 کو مجھے ایک طلاق دے دی۔ اب عدت کا وقت بھی گزر چکا ہے اور میں کسی طور پر رجوع نہیں کرنا چاہتی۔

میں صرف یہ جاننا چاہتی ہوں کہ:

  1. کیامیراطلاق کا مطالبہ کرنا شرعی طور پر درست ہے؟
  2. انہوں نے تاحال میرا حقِ مہر بھی ادا نہیں کیا، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
  3. میرے دو بیٹے ہیں، کیا وہ اپنے والد کی جائیداد میں شرعی طور پر حق دار ہیں؟اورمیں ان کےلیے جائیداد کا مطالبہ کرسکتی ہوں؟میں ان تمام سوالات کے جوابات شرعی دلائل کی روشنی میں چاہتی ہوں تاکہ میں اپنے فیصلے پر اطمینانِ قلب حاصل کر سکوں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میاں بیوی کا اختلاف ہو تو فوراً معاملہ طلاق تک لے جانا اور گھر توڑنے کی باتیں کرنا اچھا طرزِ عمل نہیں ہے۔ شریعت نے طلاق کو "أبغض المباحات" یعنی جائز چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ قرار دیا ہے۔ لہٰذا، انتہائی ضرورت کے وقت ہی اس کی طرف جانا چاہیے، ورنہ اس سے حتی الامکان گریز کرنا چاہیے۔

طلاق سے پہلے گھریلو اختلافات کو ختم کرنے کے لیے شریعت نے نہایت حکیمانہ اور مؤثر طریقے بیان کیے ہیں۔ ذیل میں چند اہم شرعی طریقے درج کیے جا رہے ہیں، جو میاں بیوی کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں:

1. باہمی گفت و شنید

اسلام دونوں فریقین کو صبر، برداشت، اور آپس میں بات چیت کی ترغیب دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے:"وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ"(سورۃ النساء: 19)"اور عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی بسر کرو۔"اس آیت سے مراد یہ ہے کہ بات چیت کے ذریعے ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھا جائے اور حل تلاش کیا جائے۔

2. صبر اور معافی

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَیْرُکُمْ لِأَهْلِی""تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل خانہ کے لیے بہتر ہو، اور میں تم سب سے بہتر ہوں اپنے اہل کے لیے۔"برداشت، معافی، اور نرمی سے اکثر جھگڑے ختم ہو جاتے ہیں۔

3. خاندان یا معتبر افراد کی ثالثی

اگر میاں بیوی کا معاملہ آپس میں بات چیت سے حل نہ ہو سکے تو قرآن پاک میں ایک واضح طریقہ بتایا گیا ہے:"فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا ۚ إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا"(سورۃ النساء: 35)"پس ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کرو، اگر وہ اصلاح چاہتے ہوں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا فرما دے گا۔"

4. وقتی علیحدگی (اگر معاملہ شدید ہو)

اسلام میں یہ بھی اجازت ہے کہ اگر وقتی علیحدگی سے اصلاح ممکن ہو، تو وہ اختیار کی جا سکتی ہے۔ البتہ طلاق کو آخری حل کے طور پر دیکھا جائے، اور جلد بازی نہ کی جائے۔

5. بیوی کے حقوق کی پامالی کی صورت میں طلاق کا حق

اگر تمام تر کوششوں اور وسائل کے باوجود زوجین کے درمیان نباہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو، اور شوہر کی طرف سے واقعی ظلم، زیادتی، نان و نفقہ کی عدم ادائیگی یا تشدد جیسا غیر شرعی سلوک کیا جا رہا ہو، تو ایسی صورت میں شریعت عورت کو طلاق کے مطالبے کا حق دیتی ہے۔

لیکن اگر عورت بلا کسی شرعی عذر کے طلاق کا مطالبہ کرے تو یہ جائز نہیں ہے۔ حدیثِ شریف میں آیا ہے:"أيّما امرأة سألت زوجها الطلاق من غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة""جو عورت بغیر کسی شرعی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے، اس پر جنت کی خوشبو بھی حرام ہے۔"

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ

 (١) آپ کو ایک طلاق ِرجعی ہو چکی ہے، اور بقول آپ کے، رجوع کا وقت (یعنی عدت) بھی گزر چکا ہے، تو اس کے بعد طلاق کے مطالبے کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔ نیز، رجوع مرد ہی کرتا ہے بشرطیکہ یہ عدت کے اندر ہو، اگرچہ عورت اس پر راضی نہ ہو۔ عورت کی طرف سے رجوع کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔

البتہ اگر آپ کا مطلب عدت کے بعد دوبارہ نکاح کرنا ہے تو بے شک شریعت نے عورت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ دوبارہ اس شخص سے نکاح نہ کرے۔ اس بارے میں شریعت عورت پر کوئی زبردستی نہیں کرتی بلکہ اسے آزادی دیتی ہے کہ وہ جہاں چاہےاپنا نکاح کرے۔

(۲) ۔مہرآپ کا حق ہے،وہ خاوندپر آپ کو دینالازم ہے ۔

(۳) ۔والد کی زندگی میں بیٹوں کا والد کی جائیداد میں کوئی حق نہیں ہوتا۔لہذا آپ ان کےلیے جائیدادمیں حق کا مطالبہ نہیں کرسکتی،ہاں اگروہ نابالغ ہوں تو ان کے نان ونفقہ کی ذمہ داری والد پر ہوگی۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال ابن الهمام (4/ 3)

فالصريح قوله: أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذا يقع به الطلاق الرجعي) لأن هذه الألفاظ تستعمل في

الطلاق ولا تستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص (ولا يفتقر إلى النية) لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 464)

وأما وصفه فهو أبغض المباحات إلى الله تعالى على ما رواه أبو داود وابن ماجه عنه - صلى الله عليه وسلم - أنه قال

«إن أبغض المباحات عند الله الطلاق» فنص على إباحته وكونه مبغوضا...... «أيما امرأة سألت زوجها الطلاق من غير بأس فحرام عليها رائحة الجنة» .

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 334)

قال الله تعالى: {وإن خفتم شقاق بينهما فابعثوا حكما من أهله وحكما من أهلها إن يريدا إصلاحا يوفق الله بينهما} [النساء: 35] ، وسبيل هذا سبيل الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر في حق سائر الناس أن الآمر يبدأ بالموعظة على الرفق واللين دون التغليظ في القول، فإن قبلت، وإلا غلظ القول به، فإن قبلت، وإلا بسط يده فيه، وكذلك إذا ارتكبت محظورا سوى النشوز ليس فيه حد مقدر، فللزوج أن يؤدبها تعزيرا لها؛ لأن للزوج أن يعزر زوجته كما للمولى أن يعزر مملوكه....ومنها المعاشرة بالمعروف، وأنه مندوب إليه، ومستحب قال الله تعالى: {وعاشروهن بالمعروف} [النساء: 19] قيل هي المعاشرة بالفضل والإحسان قولا وفعلا وخلقا قال النبي: - صلى الله عليه وسلم - «خيركم خيركم لأهله، وأنا خيركم لأهلي» ، وقيل المعاشرة بالمعروف هي أن يعاملها بما لو فعل بك مثل ذلك لم تنكره بل تعرفه، وتقبله وترضى به، وكذلك من جانبها هي مندوبة إلى المعاشرة الجميلة مع زوجها بالإحسان باللسان، واللطف في الكلام، والقول المعروف الذي يطيب به نفس الزوج، وقيل في، قوله تعالى {ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف} [البقرة: 228] أن الذي عليهن من حيث الفضل والإحسان هو أن يحسن إلى أزواجهن بالبر باللسان، والقول بالمعروف، والله عز وجل أعلم.

القرآن الکریم: (البقرۃ، الآیۃ: 229)

فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَo

رد المحتار: (441/3، ط: دار الفکر)

 (قوله: للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم. وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع. اه. ط، وهذا هو الحكم المذكور في الآية، وقد أوضح الكلام عليه في الفتح آخر الباب.

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي وَنِعْمَ الْأَبُ هُوَ، خَطَبَنِي إِلَيْهِ عَمُّ وَلَدِي فَرَدَّهُ، وَأَنْكَحَنِي رَجُلًا وَأَنَا كَارِهَةٌ. فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِيهَا، فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ، أَنْكَحْتُهَا وَلَمْ آلُهَا خَيْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نِكَاحَ لَكِ، اذْهَبِي فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ. سعيد بن منصور، السنن، كتاب الوصايا، باب ما جاء فى استئمار البكر والثيب،  (ابن أبي شيبة، كتاب النكاح، من أجازه بغير ولي ولم يفرق، 3: 457، رقم: 15953، الرياض: مكتبة الرشد)

وفی الھندیة:

والمهر یتأکد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحیحة، وموت أحد الزوجین سواء کان مسمی أو مهر المثل حتی لایسقط منة شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق ، کذا في البدائع". (302/1)

المبسوط للسرخسي (19/ 53):

لا حق للوارث قبل موت المورث في ماله.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

23/10/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب