| 87172 | خرید و فروخت کے احکام | سلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل |
سوال
کاشتکار حضرات کو شوگر ملز والے کھاد، دوائی وغیرہ ادھار پر دیتے ہیں ، جس کا ریٹ بھی متعین کر لیتے ہیں، رقم لیٹ کرنے پر کوئی اضافی رقم بھی نہیں لیتے، لیکن وہ کاشتکار کو جو فارم دیتے ہیں اس میں تحریری طور پر پابند کرتے ہیں کہ کاشتکار ملز ھذا کو سارا گنا سپلائی کریگا ،جس سے ادھار دی ہوئی رقم کاٹ دی جائے گ۔یاد رہے کہ ملز کے ملازمین اپنے طور پر کہہ دیتے ہیں کہ صرف ادھار رقم کے بقدر گنا ملز میں دینا ضروری باقی گناآپ کی مرضی دیں یا نہ دیں کسی قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہوگی۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ ادھار سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں اور یہ ادھار لینا جائز ہے یا نہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کھاد اور بیج وغیرہ کی ادھار خریدو فروخت میں یہ شرط (کہ کاشتکار اپنی پیداوار اسی مل کو فروخت کرے گا) ایک شرطِ فاسد ہے، جس سے خریدوفروخت کا عقد فاسد ہوجاتا ہے۔اس فاسد طریقے سے خریدو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے اجتناب واجب ہے۔ البتہ فصل کے پکنےاور پیداوار کے حصول سے پہلے کاشتکاروں کی نقد رقم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے شریعت نے "عقدِ سَلَم" کو جائز قراردیا ہے، اس عقد کے مطابق ملز نےکاشتکاروں سے جو پیداوار خریدنی ہو اس کی کوالٹی، مقدار، ادائیگی کا مقام اور تاریخ اورقیمت طے کر کے،پیداوار کے حصول سے پہلے ہی خرید کر مکمل قیمت کاشتکاروں کو اسی مجلسِ عقد میں ادا کر دے، عقد ِ سلم کی نسبت کسی کاشتکار کی فصل کی طرف نہیں کی جائے گی، بلکہ عقد مطلقاً کیا جائے گا کہ "کاشتکار نے اتنی مقدار میں مثلاً گنا مل کو فروخت کیا"، بعد میں چاہے وہ اپنی فصل کی پیداوار ادا کر دے، نیز اس میں باہمی رضامندی سے مارکیٹ ریٹ سے کم ریٹ بھی طے کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ جات
)المبسوط للسرخسی: 13/15(
وإن کان شرطا لا یقتضیہ العقد،ولیس فیہ عرف ظاهر قال:فان کان فیہ منفعۃ لأحد المتعاقدین فالبیع فاسد؛لأن الشرط باطل في نفسہ.
زاہد خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
15/مضان 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زاہد خان بن نظام الدین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


