| 87306 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھانے پینے کے مسائل |
سوال
میں ایک پاکستانی طالب علم ہوں ، روس میں رہتا ہوں۔ چھ مہینوں سے کوئی حلال کام نہیں مل رہا ، پیسوں کی سخت ضرورت ہے، بہت پریشان ہوں، یہاں جو کام ملتا ہے اس میں حرام کا کوئی نا کوئی عنصر شامل ہوتا ہے ۔ مجھے ایک برگر بنانے والی دکان پر کام مل رہا ہے جہاں مجھے چکن اور خنزیر کے گوشت کے بر گربنا کے پیک کرنے ہوں گے۔ کیا میں یہ کام کرسکتا ہو ؟ کیا اس میں کوئی گنجائش ہے ؟ میری رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی مسلمان کے لئے غیر مسلموں کے لیے حرام کھانا بنانا جائز نہیں ہے،اس لیے کہ شریعت میں جس طرح خنزیر کا گوشت، غیر مذبوح جانور اور شراب حرام ہے، بالکل اسی طرح ان چیزوں کا تیار کرنا یا پیش کرنا یا ان کی تیاری میں کسی بھی قسم کا تعاون کرناناجائز اور حرام ہے،اور ایسے حرام کام کی تنخواہ و اجرت بھی ناجائز ہے ۔(مستفاد از تبویب 81519)
لہذا کسی مسلمان کو اگر غیر مسلموں کے ہاں کام کرنا ہو تو یہ شرط رکھے کہ میں صرف جائز کام کروں گا، اس شرط کے بغیر کوئی ایسا کام شروع کرنا جائز نہیں ، البتہ اگر کام شروع کر چکا ہو تو پھر درجذیل شرائط کے ساتھ اس کام کو جاری رکھ سکتا ہے:
۱۔ ممکنہ حد تک حرام کام سے بچنے کی کوشش کرے۔
2۔ پھر بھی کوئی حرام کام ہو جائے تو تنخواہ سے اس تناسب سے رقم صدقہ کرے۔
3. اس ے ساتھ ساتھ ایک بے روزگار آدمی کی طرح دوسرا حلال کام تلاش کرتارہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم :
{ وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [المائدة: 2]
صحيح البخاري»(2/ 779):
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما:أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول عام الفتح، وهو بمكة: (إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة والخنزير، والأصنام). فقيل: يا رسول الله، أرأيت شحوم الميتة، فإنها يطلى بها السفن، ويدهن بها الجلود، ويستصبح بها الناس؟ فقال: (لا، هو حرام). ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: (قاتل الله اليهود إن الله لما حرم شحومها جملوه، ثم باعوه، فأكلوا ثمنه).
بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص340):
العمل في مطاعم الكفار إنما يجوز بشرط أن لا يباشر المسلم سقي الخمر أو تقديم الخنزير، أو المحرمات الأخرى، فإن سقي الخمر أو تقديمها إلى من يشربها حرام بنص صريح، عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ((لعن الله الخمر، وشاربها، وساقيها، وبائعها، ومبتاعها، وعاصرها، ومعتصرها، وحاملها، والمحمولة إليه))
فقہ البیوع (1057/2
الحاصل انّ الإجارة فى الخدمة المباحة إنّما تصح إذا كانت أجرتها معلومة با نفرادها. ولا تصح فيما إذا لم تكن أجرتُها معلومة. فإن كان كذلك في خدمات الفنادق والمطاعم والبنوك وشركات التأمين، صارت أجرةُ الموظف فيها مركبة من الحلال والحرام فدخلت فى الصورة القسم الثالث، وحل التعامل بقدر الحلال. أما إذالم تعرف أجرة الخدمة المباحة على حدتها، فالإجارة فاسدة ولكن الأجير يستحق أجر المثل فى الإجارات الفاسدة، كما صرح به ابن قدامة رحمه الله تعالى بذلك في إجارات فاسدة أخرى وعلى هذا، فإن ما يُقابل أجر المثل للخدمة المباحة فى راتبه ينبغى أن يكون حلالاً. فصار راتبه مخلوطاً من الحلال والحرام في هذه الصورة أيضاً. فينبغى أن يجوز معه التعامل بقدر الحلال.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
28/شوال 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


