03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بھتیجوں اور بھتیجیوں میں ترکہ کی تقسیم
87339میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

پھپھو کی وفات سے پہلے ان کے دو بھائی اور ایک غیر شادی شدہ بہن کا انتقال ہو چکا تھا۔ دو بھائیوں کی اولاد میں سے ایک بھائی، جن کے ساتھ وہ (پھپھو) رہتی تھیں، کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں (جن میں سے ایک بیٹی غیر شادی شدہ ہے) ہیں۔ دوسرے بھائی کے دو بیٹے اور دو شادی شدہ بیٹیاں ہیں۔ ترکہ میں ایک فلیٹ، الیکٹرانکس کا سامان، گھریلو استعمال کے برتن، کچھ سلے ہوئے اور ان سلے کپڑے وغیرہ شامل ہیں۔

ترکہ میں تقسیم کی شرح کیا ہوگی؟

کیا غیر شادی شدہ بھتیجی  بھی ترکہ کی حقدار ہے؟

تنقیح: سائلہ سے وضاحت طلب کرنے پر معلوم ہوا کہ پھپھو غیر شادی شدہ تھیں۔ ان کے والدین اور بہن بھائی  پہلےوفات پا چکے تھے۔ ان کے انتقال کے وقت ورثاء میں صرف دونوں بھائیوں کی اولاد، یعنی چار بھتیجے اور چار بھتیجیاں موجود تھیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ نے جو کچھ چھوٹابڑا سازوسامان،رقم اور جائیداد چھوڑی ہے،سب اس کا ترکہ ہے ۔  اس میں سے  پہلے مرحومہ کی تجہیز وتکفین کےمعتدل اخراجات (اگركسی وارث نے یہ  بطورتبرع اپنے ذمے نہ لیے ہوں( نکالےجائیں ،پھر اگر مرحومہ  کے ذمہ کسی کاقرض ہو تووہ  ادا کیا جائے ،پھر اگرمرحومہ نے کسی غیروارث کے لئےکوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد  تک اس کے مطابق عمل کیا جائے،اس کےبعدجوترکہ  بچ جائے اس کومرحومہ کےانتقال کےوقت موجودورثاء   (بھتیجوں  اور بھتیجیوں میں سے صرف بھتیجوں ) میں تقسیم کیا جائے گا۔ بھتیجیاں (چاہے شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ)میراث میں حصے دار نہیں ہوں گی۔

تقسیمِ میراث کا طریقہ  یہ ہوگا کہ کل ترکہ کے چار (4) حصے کردیے جائیں گے اور  ہر بھتیجے کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا ،یعنی فیصدی اعتبار سے ہر بھتیجا کل ترکہ کے 25% مالیت کا مستحق ہوگا۔

ذیل میں تقسیم میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں :

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بھتیجا

1

25%

2

بھتیجا

1

25%

3

بھتیجا

1

25%

4

بھتیجا

1

25%

میزان

4بھتیجے

4حصے

100%

 

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص765):

ان ‌ابن ‌الاخ ‌لا ‌يعصب أخته، كالعم لا يعصب أخته وابن العم لا يعصب أخته وابن المعتق لا يعصب أخته، بل المال للذكر دون الانثى لانها من ذوي الارحام.

قال في الرحبية: وليس ابن الاخ بالمعصب من مثله أو فوقه في النسب .

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   02 /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب