| 87531 | پاکی کے مسائل | وضوء کے فرائض |
سوال
کیا ہمیں ہر چیز کو استعمال سے پہلے چیک کرنے کی ضرورت ہے یا جب تک جلد تک پانی سے کسی مانع اور بیرئیرکے لگے ہونے کا ہمیں سو فیصد یقین نہ ہو ہم اس کے مکلف نہیں ہیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس چیزکے ناپاک ہونےیا اس کے جسم پر لگنے سے جلد تک پانی پہنچنے میں رکاوٹ ہونے کا یقین یاغالب گمان نہ ہو ، وہ پاک سمجھی جائے گی اور اسے جلدتک پانی پہنچنے سے مانع شمارنہیں کیا جائےگا ،لہٰذا اس کے استعمال سے پہلے کسی قسم کی تحقیق اور چھان بین کی ضرورت نہیں ہے،اور بلاوجہ اس کو ضروری سمجھنایا نہ دیکھنے کی صورت میں یہ سمجھنا کہ وضو یا غسل نہیں ہوا تو ایسا کرنا غلو ہے جو شرعا منع ہے۔
حوالہ جات
تفسير القرطبي (6/ 21):
قوله تعالى: (يا أهل الكتاب لا تغلوا في دينكم) نهي عن الغلو. والغلو التجاوز في الحد، ومنه غلا السعر يغلو غلاء، وغلا الرجل في الأمر غلوا ...فالإفراط والتقصير كله سيئة وكفر، ولذلك قال مطرف بن عبد الله: الحسنة بين سيئتين.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:1/ 151):
من شك في إنائه أو في ثوبه أو بدن أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن، وكذا الآبار والحياض والجباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار؛ وكذا ما يتخذه أهل الشرك أو الجهلة من المسلمين كالسمن والخبز والأطعمة والثياب اهـ ملخصا.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
05/ ذوالقعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


