03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جسم سے آٹے، رنگ اورٹھوس چیز  دور کرنے   کا حکم  
87533پاکی کے مسائلوضوء کے فرائض

سوال

اگرکبھی  جسم پر آٹا، کلر یا کوئی ٹھوس چیز لگ  جائے تو اسے کس حد تک ہٹانا ضروری ہے؟ کیا اچھے طریقے سے صابن سے دھو لینا یا کلر کو تھنر/ Thinner وغیرہ کے ذریعے اوپر اوپر سے صاف کرنا کافی ہے، یا ٹارچ لائٹ وغیرہ سے اس کے مکمل زائل ہونے  کا یقین  حاصل کرناضروری ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جسم پر آٹا، کلر یا کوئی ٹھوس چیز لگ  جائے تو اسے کھرچ کر ہٹا دینا یا   Thinnerیعنی  چپکنے والے مادوں کو ہلکا کرنے والے  کیمکل محلول وغیرہ سے صاف کرکے صابن سے دھولینا کہ جلد تک پانی پہنچنے میں کوئی  رکاوٹ  نہ رہے،یہ کافی ہے،باقی  ٹارچ لائٹ سے اس کے مکمل زائل ہونے  کا یقین  حاصل کرناضروری نہیں ہے  ۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:1/ 154):

وكذا دهن ودسومة (وتراب) وطين، ولو (في ظفر مطلقا) أي قرويا أو مدنيا في الأصح بخلاف نحو عجين.(و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى. وقيل إن صلبا منع، وهو الأصح.

 محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

05/ ذوالقعدہ 1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب