| 87534 | پاکی کے مسائل | وضوء کے فرائض |
سوال
جسم پر زخم ہونے کی صورت میں سینی پلاسٹ (چپکنے والی پٹی )لگاتے ہیں تو زخم ٹھیک ہونے کے بعد کیا اس کا ریزیڈو ہٹانا ضروری ہے ؟ میں نے یوٹیوب پر ایک مشہورمولانا صاحب سے سنا ہے کہ سینی پلاسٹ وغیرہ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہیے، اگر اس کا ریزیڈو ایک بال برابر جگہ پر بھی لگا رہ جائے تو وضو نہیں ہوتا۔ کیا یہ صحیح ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جسم پر زخم کی صورت میں بوجہ ضرورت جو چپکنے یا چسپاں ہونے والی پٹی / Bandage Plaster لگائی جاتی ہے یہ جبیرہ اور مرہم پٹی کےحکم میں ہوتی ہے،اگر اس کا اتارنا زخم کے لیے مضر ہوتو وضواور غسل میں اس پر مسح کرلینا کافی ہے،البتہ زخم مندمل ہونے اور اس پٹی کی ضرورت نہ رہنے پر جب اس کو ہٹایا جائے تو وہ جگہ دھولی جائے،اچھی طرح دھولینے سے اس زخم پٹی کی چپک / Residue عموماختم ہو جاتی ہے،لہٰذا شک وشبہ میں نہیں پڑنا چاہیے۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 5):
في مجموع النوازل :إذا كان برجله شقاق فجعل فيه الشحم وغسل الرجلين ولم يصل الماء إلى ما تحته ينظر، إن كان يضره إيصال الماء إلى ما تحته يجوز وإن كان لا يضره لا يجوز. كذا في المحيط. فإن خرزه جاز بكل حال. كذا في الخلاصة.وذكر شمس الأئمة الحلواني إذا كان في أعضائه شقاق وقد عجز عن غسله سقط عنه فرض الغسل ويلزم إمرار الماء عليه، فإن عجز من إمرار الماء يكفيه المسح، فإن عجز عن المسح سقط عنه المسح أيضا فيغسل ما حوله ويترك ذلك الموضع. كذا في الذخيرة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:1/ 154):
صرح به في المنية عن الذخيرة في مسألة الحناء والطين والدرن معللا بالضرورة. قال في شرحها:و لأن الماء ينفذه لتخلله وعدم لزوجته وصلابته، والمعتبر في جميع ذلك نفوذ الماء ووصوله إلى البدن اهـ
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
05/ ذوالقعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


