| 87375 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
دو افراد اس طور پر کاروبار شروع کر رہے ہیں کہ ایک کی جانب سے دکان ہے اور دوسرےکی جانب سے سرمایہ ، جبکہ کام دونوں مل کر کرتے ہیں اور نفع بھی باہمی طور پر نصف نصف تقسیم کر لیتے ہیں ، تاہم خسارے کی صورت میں نقصان کا ذمہ دار صرف سرمایہ کا مالک ہو گا، کیا ایسا کرناشرعاً درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ عقد شرکت (شرکت اموال) کے درست ہونے کے لئے ضروری ہے کہ ہر شریک کی جانب سے سرمایہ مال کی شکل میں ہو،مذکورہ صورت میں چونکہ ایک شریک کی جانب سے سرمایہ مال کی صورت میں اور دوسرے شریک کی جانب سے دکان کے منافع کی صورت میں طے کیا گیا ہے،اس لئے یہ عقد شرکت درست نہیں۔
اسی طرح یہ معاملہ بطور مضاربت بھی درست نہیں اس لئے کہ مضاربت کے درست ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ معاہدہ کرتے وقت سرمایہ فراہم کرنے والے (رب المال )پر عمل کرنے کی شرط نہ لگائی جائے، بلکہ عمل صرف عمل کرنے والے (مضارب ) کی ذمہ داری قرار دی جائے، اگر مضاربت کا معاہدہ کرتے وقت سرمایہ فراہم کرنے والے کے لیے بھی عمل کرنے کی شرط لگائی جائے تو اس سے مضاربت کا معاملہ فاسد ہوجاتا ہے ۔
مذکورہ معاملے کی آسان متبادل صورت یہ ہے کہ جس شریک کی دکان ہے وہ بھی اپنا کچھ سرمایہ نقود کی شکل میں کاروبار میں شامل کرلے، اس صورت میں کاروبار سے جو نفع حاصل ہوگا اس میں سے سب سے پہلے کاروباری اخراجات منہا کیے جائیں گے، اس کے بعد جو کچھ بچے گا وہ فریقین طے شدہ تناسب سے تقسیم کر لیں۔
یاد رہے کہ ایسی شراکت جس میں دونوں شریک عملی طور پر کام کریں، اور معاہدے میں کسی ایک شریک کے کام نہ کرنے کی کوئی شرط نہ رکھی جائے، تو نفع کا جو بھی تناسب طے کیا جائے وہ جائز ہے،البتہ نقصان کی صورت میں ہر شریک اپنے سرمایہ کے بقد ر ہی نقصان کا ذمہ دار ہو گا۔
شرکت اموال میں چونکہ کاروباری اخراجات مالِ شرکت سے منہا ہوتے ہیں، لہذا دکان کا مالک دکان کا کرایہ پہلے سے طے کر کے کاروباری اخراجات کے ضمن میں وصول کر سکتا ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ دوکان کا کرایہ داری کا معاہدہ شرکت کے معاملے سے بالکل الگ کیا جائے،یعنی شرکت کے معاملے میں اس کو بطور شرط نہ رکھا جائے۔
حوالہ جات
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام(3/ 353):
بيان الشروط...:المادة (1338) - (يشترط أن يكون رأس المال من قبيل النقود) فلذلك لا يصح عقد الشركة على الأموال التي هي من العروض والعقار والمكيل والموزون والعدديات المتقاربة التي لا تعد نقودا.
مجلة الأحكام العدلية(ص257):
المادة (1344) إذا اشترك اثنان على أن يحمل أحدهما أمتعته على دابة آخر للجوب بها وبيعها على أن يكون الربح بينهما مشتركا فتكون الشركة فاسدة ويكون الربح الحاصل لصاحب الأمتعة ويأخذ صاحب الدابة أجر دابته أيضا والدكان كالدابة فلو اشترك اثنان على أن يبيع أحدهما أمتعته في دكان الآخر وأن يكون الربح مشتركا بينهما فتكون الشركة فاسدة ويكون ربح الأمتعة لصاحبها
ويأخذ صاحب الدكان أجر مثل دكانه أيضا.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 85):
وكذا لو شرط في المضاربة عمل رب المال، فسدت المضاربة سواء عمل رب المال معه أو لم يعمل؛ لأن شرط عمله معه شرط بقاء يده على المال، وإنه شرط فاسد.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 312):
قوله: ومع التفاضل في المال دون الربح) أي بأن يكون لأحدهما ألف وللآخر ألفان مثلا واشترطا التساوي في الربح، وقوله وعكسه: أي بأن يتساوى المالان ويتفاضلا في الربح، لكن هذا مقيد بأن يشترط الأكثر للعامل منهما أو لأكثرها عملا، أما لو شرطاه للقاعد أو لأقلهما عملا فلا يجوز كما في البحر عن الزيلعي والكمال.
قلت: والظاهر أن هذا محمول على ما إذا كان العمل مشروطا على أحدهما.
وفي النهر: اعلم أنهما إذا شرطا العمل عليهما إن تساويا مالا وتفاوتا ربحا جاز عند علمائنا الثلاثة خلافا لزفر والربح بينهما على ما شرطا وإن عمل أحدهما فقط؛ وإن شرطاه على أحدهما، فإن شرطا الربح بينهما بقدر رأس مالهما جاز، ويكون مال الذي لا عمل له بضاعة عند العامل له ربحه وعليه وضيعته، وإن شرطا الربح للعامل أكثر من رأس ماله جاز أيضا على الشرط ويكون مال الدافع عند العامل مضاربة، ولو شرطا الربح للدافع أكثر من رأس ماله لا يصح الشرط ويكون مال الدافع عند العامل بضاعة لكل واحد منهما ربح ماله والوضيعة بينهما على قدر رأس مالهما أبدا هذا حاصل ما في العناية اهـ ما في النهر.
حسن علی عباسی
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
03/ذی قعدہ /1446
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حسن علی عباسی ولد ذوالفقار علی عباسی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


