03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملازمت کی وجہ سےجمعہ اور دیگر نمازیں قضاء کرنے کا حکم
87430نماز کا بیاننما زکے جدید مسائل

سوال

میرا بھائی انگلینڈ میں ہوتا ہے ،وہاں جمعہ کی نماز کی چھٹی نہیں ملتی، کیا اس صورت میں جمعہ کی نماز چھوڑنا  جائز ہے؟کیونکہ ان لوگوں کا کام ایک دن میں 15 گھنٹے کا ہوتا ہے ،جس کی وجہ سے دیگر نمازیں بھی رہ جاتی ہیں ،اگر باقی نمازیں بھی ظہر،عصر، مغرب  اورعشاء ملا کر پڑھ لیں تو کیا اس میں کوئی گناہ ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

فرض نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنا لازم ہے،ملازمت کوئی ایسا عذر نہیں جس کی وجہ سے فرض نماز چھوڑنے کی گنجائش ہو،اس لئے آپ کے بھائی پر لازم ہےکہ انتظامیہ سے بات چیت کرکے نمازوں (پانچوں نمازوں بشمول نماز جمعہ) کےمتعلق اجازت پر آمادہ کرے، اگرانتظامیہ اس پر آمادہ نہ ہوتوپھر یہ تجویز رکھی جائے کہ نمازوں میں جتنا وقت صرف ہوتا ہے اس کے بقدر تنخواہ سے کٹوتی کرلی جائے،اگر انتظامیہ کسی طرح بھی راضی نہ ہو تو پھر متبادل ملازمت تلاش کرنے کی کوشش کی جائے اور جب تک متبادل ملازمت نہ ملے تب تک بغیر اجازت فرض نمازوں کے اہتمام کی کوشش کی جائے،البتہ نمازیں مختصر پڑھی جائیں اور سنن ونوافل چھوڑدیئے جائیں،تاکہ کام کا زیادہ حرج نہ ہواور اجازت ملنے کی راہ ہموارہو۔

اگر صرف فرائض پڑھنے کی بھی گنجائش نہ نکلے تو یہ ملازمت چھوڑدینا لازم ہے،اللہ تعالی پر توکل کرکے دوسری ملازمت تلاش کی جائے،دعاؤں کا اہتمام کیاجائے،ان شاء اللہ اس سےبہتر ملازمت مل جائے گی۔

حوالہ جات

"رد المحتار" (6/ 70):

 "(قوله: وليس للخاص أن يعمل لغيره) بل ولا أن يصلي النافلة. قال في التتارخانية: وفي فتاوى الفضلي وإذا استأجر رجلا يوما يعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيء آخر سوى المكتوبة .وفي فتاوى سمرقند: وقد قال بعض مشايخنا: له أن يؤدي السنة أيضا. واتفقوا أنه لا يؤدي نفلا وعليه الفتوى. وفي غريب الرواية قال أبو علي الدقاق: لا يمنع في المصر من إتيان الجمعة، ويسقط من الأجير بقدر اشتغاله إن كان بعيدا، وإن قريبا لم يحط شيء، فإن كان بعيدا واشتغل قدر ربع النهار يحط عنه ربع الأجرة".

"الفتاوى الهندية "(4/ 416):

"وفي فتاوى الفضلي - رحمه ﷲتعالى -: إذا استأجر رجلا يوما ليعمل كذا فعليه أن يعمل ذلك العمل إلى تمام المدة ولا يشتغل بشيءآخر سوى المكتوبة ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/ذی قعدہ1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب