| 87450 | طلاق کے احکام | طلاق سے رجو ع کا بیان |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی جو کہ پندرہ سال سے شادی شدہ ہےمگر تھوڑے ہی عرصے بعد نا چاقی اور لڑائی شروع ہوئی اور بیوی کا ہرتھوڑے عرصے بعد ناراض ہو کر میکے جانا اور وہاں رک جانا معمول ہے اور بات بات پر شوہر سے علیحدگی کی دھمکی اور طلاق کامطالبہ کرتی رہی ،اس کے باوجود شوہر نے صبر اور شرافت سے سولہ سال گزارلیے جس میں 15 سال کی بچی اور 14 سال کا بچہ جو بچپن سےابھی تک آدمی ہی نے سنبھالا۔ شوہر کے بار بار منع کرنے پر طلاق کا مطالبہ رہا ، چار ماہ پہلے پھر ناراضگی ہوئی اور طلاق کا مطالبہ کیا ،تو اب آدمی نے بیوی کو ایک طلاق کہہ کر میکے بھیج دیا ،اب چار ماہ سے وہ اپنے ماں باپ کے گھر ہے ۔
سوال یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟اس میں رجوع کا کہاں تک حکم ہے؟ شوہر پھر بھی صلح کے لیے تیار ہے کہ گھر برباد نہ ہو ۔ اس بارے میں رہنمائی فرمادیجئے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں جب چار ماہ گزر گئے ہیں تو اگر حمل نہیں ہے تو تین ماہواریاں بظاہر گزر گئی ہے ،اس لئے اب رجوع تو نہیں ہوسکتا، البتہ باہمی رضامندی سے دو شرعی گواہوں کے موجود گی میں نئے مہر اور نئے ایجاب و قبول کے ساتھ دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔ مگر شوہر کے پاس مزید دو طلاقوں کا اختیار رہے گا،بشرطیکہ اس سے پہلے کوئی اور طلاق نہ دی ہو۔
حوالہ جات
وفی الفتاوی الھندیۃ:وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية. (الفتاوى الهندية:1/ 470)
وفی الفتاوی الھندیۃ:الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.»
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ :(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة).... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) (الدر المختار :3/ 397)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ : (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب( رد المحتار:3/ 409)
سخی گل بن گل محمد
دارالافتاءجامعۃالرشید،کراچی
/13ذی القعدہ،1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سخی گل بن گل محمد | مفتیان | سعید احمد حسن صاحب / مفتی محمد صاحب |


