| 89073 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
میں آپ سے شرعی رہنمائی چاہتا ہوں کہ ایک مرد نے اپنے گھر والوں سے مخفی طور پر ایک خاتون سے دوسرا نکاح کیا، لیکن ابھی رخصتی عمل میں نہیں آئی تھی اور خلوتِ صحیحہ بھی واقع نہیں ہوئی تھی۔ بعد ازاں اس مرد کی پہلی بیوی کے گھر والوں نے اس پر شدید دباؤ ڈالا اور صاف صاف جان سے مار دینے کی حقیقی اور قابلِ یقین دھمکیاں دیں کہ اگر اس نے دوسری بیوی کو فوراً طلاق نہ دی تو وہ نہ صرف اسے بلکہ اس کی دوسری بیوی اور اس کے گھر والوں کو بھی قتل کر دیں گے۔ ان لوگوں کے سابقہ واقعات اور جہالت کی وجہ سے یہ دھمکیاں محض زبانی نہ تھیں بلکہ حقیقتاً خوف کا باعث تھیں۔اسی دباؤ کے تحت اس شخص سے زبردستی تحریری طلاق نامے پر دستخط کروائے گئے جس میں طلاقِ ثلاثہ درج تھی، اور اس کے ساتھ اس خاتون پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات بھی لکھےگئے۔خوف اور مجبوری کی وجہ سے اس نے دستخط کر دیے۔اسی مجلس میں اسے مجبور کیا گیا کہ وہ طلاق کے الفاظ زبان سے بھی ادا کرے۔ چنانچہ اس نے مجبوراً ایک مرتبہ یہ کہا کہ:میں فلاں بنتِ فلاں کو طلاق دیتا ہوں۔”اگلے روز دوبارہ اسی دباؤ اور خوف کی حالت میں اسے تین مرتبہ زبان سے یہ الفاظ دہرانے پر مجبور کیا گیا:میں فلاں بنتِ فلاں کو طلاق دیتا ہوں،میں فلاں بنتِ فلاں کو طلاق دیتا ہوں،میں فلاں بنتِ فلاں کو طلاق دیتا ہوں۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ :
-1 ایسی شدید جبری حالت میں دی گئی تحریری اور زبانی طلاقیں، جبکہ ابھی خلوت صحیحہ اور رخصتی نہیں ہوئی تھی، شرعی اعتبار سے کتنی موثر اور نافذ ہیں؟
-2کیا زبانی طور پر تین بار دہرانے سے تین طلاق واقع ہوں گی؟
-3کیا یہ تمام افعال جبر اور اکراہ کی وجہ سے شرعاً غیر موثر تصور ہوں گے؟
-4اگر شرعاً طلاق واقع ہوتی ہے تو اس کی نوعیت (رجعی یا بائن) کیا ہوگی اور آگے شرعی طریقہ کار کیا ہوگا؟
-5اگر جبر اور دھمکی کی وجہ سے طلاق غیر مؤثر قرار پاتی ہے تو متاثرہ خاتون کا شرعی حق اور ازالۂ ضرر کیا ہوگا؟
-6کیا ایسی صورت میں کسی تلافی، کفارہ، یا شرعی تصحیح (جیسے نکاح کی تجدید یا تصدیق) کی ضرورت ہوگی؟
براہ کرم متعلقہ فقہی دلائل کے ساتھ واضح رہنمائی فرمائیں تاکہ ہم شرعی اصولوں کے مطابق مناسب عملی اقدام کر سکیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اکراہ(مجبور کرنے) کی دو قسمیں ہیں:
1۔ اکراہ تام: جس میں جبر کرنے والا کسی ایسی چیز کی دھمکی دے جس سے ڈر کر انسان طبعی طور پر کام کرنے پر مجبور ہو جائے جیسے قتل، عضو کاٹنے یا اس طرح مارنے کی دھمکی دینا جس سے کوئی عضو ضائع ہو جائے۔
2۔ اکراہ ناقص: جس میں دھمکی مذکورہ بالا صورت سے کم درجے کی ہو لیکن اس قدر غیر معمولی ہو کہ انسان اپنی رضامندی کے بغیر کوئی کام کرنے پر خود کو مجبور سمجھے اور کام نہ کرنے پر نتائج کو اپنی برداشت سے باہر سمجھے۔ اس قسم کے اکراہ کے تحقق کے لیے جان سے مارنے یا عضو تلف کرنے کی دھمکی دینا ضروری نہیں، البتہ یہ ضروری ہے کہ ایسےمعمولی نتیجے کی دھمکی نہ ہو جسے عموماً برداشت کے قابل سمجھا جاتا ہو۔
اکراہ کی ان دونوں قسموں میں تحریری طور پر طلاق لکھ دینے یا لکھی ہوئی طلاق پر دستخط کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ البتہ زبان سے طلاق کے الفاظ کی ادائیگی سے طلاق واقع ہوگی۔تاہم اکراہ کے ثابت ہونے کے لیے چار شرائط ہیں:
1۔ مجبور کرنے والا اس کام کی قدرت رکھتا ہو جس پر وہ مجبور کر رہا ہو۔ یہ قدرت ذاتی طور پر بھی ہو سکتی ہے اور کسی کارندے یا تعلق دار کی مدد سے بھی۔
2۔ جسے مجبور کیا جائے اسے کم از کم غالب گمان کے درجے میں یہ خوف ہو کہ کام نہ کرنے پر فوری نتیجہ دھمکی کے مطابق نکل سکتا ہے۔
3۔ دھمکی کسی ایسی چیز کی ہو جس سے جان جانے ، عضو ضائع ہونے کا خطرہ ہو، یا کم سے کم ایسی غیر معمولی صورت حال سے دوچار کرنے کی ہو جس سے عموماً مجبور کیے جانے والے اس جیسے شخص کی رضامندی ختم ہو جاتی ہو۔
4۔ جس چیز پر مجبور کیا جائے اس سے مجبور ہونے والا شخص اس اکراہ سے پہلے رکا ہوا ہو اور وہ کام نہ کرنا چاہتا ہو۔
یہ چاروں شرائط پائی جائیں تو اکراہ درست ہوگا اور اس کے احکام لاگو ہوں گے۔
لہذاصورت مسئولہ میں اگراس کو واقعتا دباؤ ڈال کرمارنے کی دھمکی دی گئی تھی اور اس کو یقین تھاکہ وہ یہ دھمکی پوری کرسکتے ہیں اور پوری کریں گےاور اس نے زبان سے کہے بغیرصرف تحریری صورت میں موجودطلاق پر دستخط کیے ہیں تو وہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔
البتہ جب اسی مجلس میں اسے زبردستی مجبور کیا گیا کہ وہ صریح طور پر طلاق کے الفاظ زبان سے ادا کرے، تو اس نے دباؤ کے تحت ایک مرتبہ یہ الفاظ کہے" میں فلاں بنتِ فلاں کو طلاق دیتا ہوں"اس سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی۔
اگلے روز دوبارہ اسی خوف، دباؤ اور دھمکی کی حالت میں اس شخص کو تین مرتبہ طلاق کے الفاظ دہرانے پر مجبور کیا گیا"میں فلاں بنتِ فلاں کو طلاق دیتا ہوں، میں فلاں بنتِ فلاں کو طلاق دیتا ہوں، میں فلاں بنتِ فلاں کو طلاق دیتا ہوں"
چونکہ عورت پہلی ہی طلاق سے بائن ہوچکی تھی، اس لیے بعد میں دہرانے والے یہ تینوں جملے کوئی نئی طلاق واقع نہیں کرتے۔لہٰذا اگر وہ شخص دوبارہ اس خاتون سے نکاح کرنا چاہے تو از سرِ نو مہر مقرر کرکے، گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کرسکتا ہے۔نکاح کے بعد اس کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
حوالہ جات
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (6/ 129):
«كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال.
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (8/ 80):
«وفي المحيط قال مشايخنا إلا إذا كان الرجل صاحب منصب يعلم أنه يتضرر بضرب سوط أو حبس يوم فإنه يكون إكراها.وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 9 / ص 138):
” لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق ؛لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع۔ “
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 236):
وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية،
بدائع الصنائع (7/175):
وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر۔۔۔ وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.
الدر المختار و حاشية ابن عابدين (6/129):
(وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع) كشرب الخمر والزنا.
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (3/ 187):
«وأما إن كان أحدهما حرا، والآخر مملوكا فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية.»
محمد ابرہیم عبد القادر
دارالافتاءجامعۃ الرشید ، کراچی
26/جمادی الاولی 7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابراہیم بن عبدالقادر | مفتیان | سعید احمد حسن صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


