| 90435 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
میری شادی 2023ء میں ہوئی، بچے کی پیدائش سے پہلے میری بیوی بالکل خوش تھی، ہمارا کوئی اختلاف نہیں تھا، جیسے ہی بچے کی پیدائش ہوئی تو بیوی نے گھر کا ماحول خراب کرنا شروع کردیا، بار بار کوشش کے باوجود وہ باز نہ آئی، آخر کار وہ اپنے والدین کے گھر چلی گئی اور عدالت سے خلع کی ڈگری لے لی اور نادرا سے بھی میرا نام ختم کروا دیا، عدالت میں اس نے بچہ بھی مجھے واپس کر دیا، اس کے پیچھے اصل کے والدین کا ہاتھ ہے، اس کا والد کہتا ہے کہ میری تین شرطیں پوری کرو تو یہ آئے گی، ورنہ نہیں:
- سمارٹ موبائل فون لے کر دو، جبکہ اس کے پاس چھوٹا موبائل موجود تھا۔
- بیٹی میری مرضی کے مطابق ہر ہفتے دو تین دن کے لیے میرے گھر آیا کرے گی، جبکہ پہلے بھی بیوی کئی مرتبہ ان ملنے چلی جاتی رہی ہے، میری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔
- لڑکا جب بھی حیدرآباد آئے گا تو لڑکی کو بھی ساتھ لے کر آئے گا اور مجھ سے ملوانے ہمارے گھرضرور لائے گا۔
نیز سسر کبھی رات ایک بجے اور کبھی دو بجے گھر پر بیٹی کو ملنے آجاتے ہیں، جبکہ ہمارا اسی گز پر مشتمل چھوٹا سا گھر ہے، خواتین بھی ہوتی ہیں تو ایسے وقت میں ان کے بار بار آنے سے کافی مسائل ہوتے ہیں۔ اس ساری صورتِ حال میں درج سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
1۔ سوال یہ کہ کیا لڑکی اور اس کےوالد کا یہ طرزِ عمل درست ہے؟
2۔ كيا عدالت کی طرف سے یک طرفہ طور پر جاری کیا گیا فیصلہ درست ہے؟
3۔ بچے کی پرورش کی ذمہ داری کس پر ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ شادی ہوجانے کے بعدعورت کے ذمہ اس کے تمام رشتہ داروں میں سے سب سے زیادہ حق اس کےشوہر کا ہے،اسی لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا:
"لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لغير الله، لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها، والذي نفس محمد بيده، لا تؤدي المرأة حق ربها حتى تؤدي حق زوجها"
ترجمہ: اگرمیں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے عورت اس وقت تک اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتی، جب تک اپنے شوہر کا حق ادا نہ کرے۔
لہذا والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ میاں بیوی کے معاملات میں بغیر کسی شرعی وجہ کے ہرگز مداخلت نہ کریں، والدین کی مداخلت کی وجہ سے کبھی معاملہ طلاق تک پہنچ جاتا ہے اور دونوں گھرانے پریشانی اور بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں، نیز میاں بیوی کے درمیان بلا وجہ علیحدگی کروانے کی قرآن کریم میں مذمت بیان فرمائی گئی ہے اور اس کو شیطانی فعل قرار دیا ہے، لہذا لڑکی کے والد کا عدالت کے ذریعہ یک طرفہ خلع دلوا کر لڑکی کو گھر بٹھانا ہرگز جائز نہیں ہے اور لڑکی کے والد کا سوال میں ذکر کی گئیں تینوں شرطیں خلافِ شرع ہیں، کیونکہ جب لڑکی کے پاس رابطہ کے لیے چھوٹا موبائل موجود تھا، جیسا کہ سوال میں موجود ہے تو اس صورت میں لڑکی کے والد کا بلا ضرورت سمارٹ فون کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
اسی طرح والد کا ہر ہفتے دو تین دن کے لیے لڑکی کو اپنے گھر ملنے کے لیے بلانا بھی خلافِ شرع ہے، البتہ لڑکے کی ذمہ داری ہے کہ اگرلڑکی کے والدین نزدیک ہوں تو ہر ہفتے لڑکی کو ملاقات کے لیے اس کے والدین کے گھر لے جائے، البتہ اس میں وہاں رات ٹھہرانا ضروری نہیں ہے، اور اگر دور ہوں جیسے مذکورہ صورت میں وہ حیدرآباد رہتے ہیں تو مناسب وقت گزرنے پر لے جائے اور دو تین دن ٹھہرا کر واپس لے آئے، کیونکہ شرعی اعتبار سے شادی کے بعد عورت شوہر کے قبضہ میں شمار ہوتی ہے، لہذاس لیے والدین کا ہر ہفتے دو تین اپنے گھر ٹھہرانے کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
2۔ اگر واقعتاً لڑکی نے بغیر کسی شرعی وجہ سے عدالت سے خلع کی ڈگری لی ہے اور شوہر نے اس پر دستخط بھی نہیں کیے تو اس صورت میں شرعاً اس فیصلے کا اعتبار نہیں اور اس کی وجہ سے نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ فریقین کے درمیان بدستور نکاح قائم ہے اور شوہر سے طلاق یا اس کی رضامندی سے خلع لیے بغیر لڑکی کا آگے نکاح کرنا ہرگز جائز نہیں۔
الفتاوى الهندية ، کتاب الطلاق، الباب السادس عشر(11/415، ط: دار الفکر):
وإذا أراد الزوج أن يمنع أباها، أو أمها، أو أحدًا من أهلها من الدخول عليه في منزله اختلفوا في ذلك، قال بعضهم: لايمنع من الأبوين من الدخول عليها للزيارة في كل جمعة، وإنما يمنعهم من الكينونة عندها، وبه أخذ مشايخنا-رحمهم الله تعالى-، وعليه الفتوى، كذا في فتاوى قاضي خان، وقيل: لايمنعها من الخروج إلى الوالدين في كل جمعة مرةً، وعليه الفتوى، كذا في غاية السروجي، وهل يمنع غير الأبوين عن الزيارة في كل شهر؟ وقال مشايخ بلخ: في كل سنة، وعليه الفتوى، وكذا لو أرادت المرأة أن تخرج لزيارة المحارم كالخالة والعمة والأخت فهو على هذه الأقاويل، كذا في فتاوى قاضي خان، وليس للزوج أن يمنع والديها وولدها من غيره وأهلها من النظر إليها وكلامها في أي وقت اختاروا. (
3۔ علیحدگی کی صورت میں اولاد کی پرورش کے بارے میں شریعت کا اصول یہ ہے کہ بچے کی پرورش کا سات سال تک اور بچی کی پرورش کا بالغ ہونے تک ماں کو حق ہوتا ہے،لیکن ماں کو پرورش کا حق اس وقت تک رہتا ہے، جب تک ماں بچوں کے کسی غیر محرم سے شادی نہ کرے، اگر ماں بچوں کے کسی غیر محرم سے شادی کر لے یا کوئی مستقل ملازمت اختیار کر لے، جس کی وجہ سے دن کا اکثر حصہ باہر رہنا پڑتا ہو اور اس سے بچوں کی تربیت میں حرج لازم آتا ہو تو اس صورت میں بچوں کی نانی کو پرورش کا حق ہو گا، اگر وہ نہ ہو تو دادی کو حق ملے گا، وہ نہ ہو توبہن کو، اگر وہ نہ ہو تو خالہ کو اور اگر وہ بھی نہ ہو یا وہ پرورش سے انکار کردے تو پھوپھی کو حق ملے گا، اگر ان میں سے کوئی نہ ہو یا وہ پرورش سے انکار کر دے تو اس کے بعد باپ کواولاد لینے کا حق ملتا ہے، اس سے پہلے باپ کا بچے/بچی کو زبردستی اپنے قبضہ میں لے لینا جائز نہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 567):
(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 567):
(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 412):
يشترط أيضا أن لا تكون متزوجة بغير محرم للصغير.
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 254):
وفي القنية: الام أحق بالولد ولو سيئة السيرة معروفة بالفجور ما لم يعقل ذلك (أو غير مأمونة) ذكره في المجتبى بأن تخرج كل وقت وتترك الولد ضائعا۔
حاشية ابن عابدين (3/ 557):
(قوله: بأن تخرج كل وقت إلخ) المراد كثرة الخروج، لأن المدار على ترك الولد ضائعا والولد في حكم الأمانة عندها، ومضيع الأمانة لا يستأمن، ولا يلزم أن يكون خروجها لمعصية حتى يستغني عنه بما قبله فإنه قد يكون لغيرها؛ كما لو كانت قابلة، أو غاسلة، أو بلانة أو نحو ذلك، ولذا قال في الفتح: إن كانت فاسقة أو تخرج كل وقت إلخ فعطفه على الفاسقة يفيد ما قلنا فافهم.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 283):
" وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد " لما روى أن امرأة قالت يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه الصلاة والسلام: " أنت أحق به مالم تتزوجي " ولأن الأم أشفق وأقدر على الحضانة فكان الدفع إليها أنظر وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة حاضرون متوافرون..... ولا تجبر الأم عليه " لأنها عست تعجز عن الحضانة " فإن لم تكن له أم فأم الأم أولى من أم الأب وإن بعدت " لأن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات " فإن لم تكن أم الأم فأم الأب أولى من الأخوات " لأنها من الأمهات …… فإن لم تكن له جدة فالأخوات أولى من العمات والخالات ….. وتقدم الأخت لأب وأم " لأنها أشفق " ثم الأخت من الأم ثم الأخت من الأب "
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
27/ذوالقعدة1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


