03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میں تمہیں طلاق دیتا ہوں کا حکم
87475طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

میری شادی نعمان نامی شخص سے ہوئی۔ ستمبر 2022 میں مجھے ان کا ایک غیر عورت کے ساتھ نازیبا تعلق معلوم ہوا۔ اس پر بحث و تکرار ہوئی۔ اس دوران شوہر نے غصے میں کہا: "جا، جان چھوڑ دے، میں ایسا ہی ہوں، طلاق دیتا ہوں، باقی اپنے بھائی کو بلا لے، اُن کے سامنے بھی دے دوں گا۔" اس کے بعد میں میکے چلی گئی۔ کچھ دن بعد شوہر آیا، معذرت کی اور وعدہ کیا کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی اور مجھے واپس گھر لے گیا۔ پھر کاروباری مسائل کی وجہ سے مختلف جگہوں پر رہائش بدلنا  پڑی، مگر شوہر کا رویہ  بار بار غائب ہو جانا، نفقہ نہ دینا، سامان اٹھا کر چلے جانا ،مسلسل غیر سنجیدگی پر مبنی تھا۔ بار بار صلح کے بعد بھی، نومبر 2024 میں شوہر دوبارہ اپنا سامان اٹھا کر چلا گیا اور اب تک کوئی رابطہ نہیں کیا؛ نہ فون، نہ پیغام، نہ نفقہ دیا۔ میں اپنے والدین کے گھر آ گئی ہوں۔ اب درج ذیل امور میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے: کیا مذکورہ بالا جملے سے طلاق واقع ہو چکی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر سائلہ کا بیان واقعۃً درست ہے   تو اس سے سائلہ پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی تھی۔ بعد ازاں شوہر نے عدت کے دوران رجوع بھی کر لیا، چنانچہ رجوع کے بعد نکاح بدستور قائم ہے، البتہ آئندہ شوہر کو صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔

حوالہ جات

(الفتاوی الھندیة 470/1:)

وإذا طلق الرجل امرأته تطلیقۃ رجعیۃ أو  تطلیقتین  فلہ أن یراجعها فی عدتهارضیت بذلک أو لم ترض کذا فی الهدایۃ.

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

13 ٖذی القعدہ  1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب