03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
3فیصد سودی آمدن والی کمپنی سے منافع کا حکم
87539جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر ایک کمپنی کاکاروبار سو فیصد حلال ہے، لیکن ایک سے تین فیصد تک اس کمپنی کو سودی آمدن  بھی آتی ہے ، تو وہ کمپنی جو  dividend دے، توکیا اس dividend میں سے اتنا حصہ صدقہ کرنا ہوگا،جتنے فیصدسودی آمدن  کمپنی کو ملی تھی؟یا اس کی ضرورت نہیں کیوں کہ غالب آمدن  تو حلال ہے، جو کہ  %96 یا 97% ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں مذکورہ کمپنی   کا  اگر بنیادی کاروبار حلال ہے اور اس کی سودی آمدن کا تناسب 5فیصد سے کم ہے  ، تو اس کے شئیرز خرید سرمایہ کاری کرنا اور  اس سے dividend وصول کرنا شرعاً جائز ہے، بس شرط یہ ہے کہ کمپنی کا جو سودی لین دین ہوتا ہے، میٹنگ وغیرہ میں اس سے عدم اتفاق کا اظہار کیا جائے اور سالانہ جو نفع(dividend وغیرہ کی شکل میں )حاصل ہو،اس میں سے ”سود“ (جو کمپنی کے اصل منافع میں شامل ہوا ہے) کے بقدر رقم صدقہ کردی جائے۔

حوالہ جات

المعاییر الشرعیۃ (569ص):

أن لا یتجاوز مقدار الإیراد الناتج من عنصر محرم نسبۃ 5 من إجمالی إیرادات الشرکۃ سواء أکان ھذا الإیراد ناتجا عن ممارسۃ نشاط محرم أم عن تملک لمحرم، وإذا لم یتم الإفصاح عن بعض الإیرادات فیجتھد فی معرفتھا ویراعی جانب الاحتیاط۔

منیب الرحمنٰ

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

17/ذی قعدہ /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

منیب الرحمن ولد عبد المالک

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب