03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وسوسہ کی بیماری والے شخص کی طلاق کا حکم
87504طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

عثمان نامی شخص کو پیرانویا (Paranoia)نامی بیماری لاحق ہے، جس کے باعث اسے تین مخصوص الفاظ (آزاد، چھوڑ، جواب) سن کر شدید وہم لاحق ہوتا ہے کہ ان کے استعمال سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی۔ اس ضمن میں درج ذیل سوالات کے متعلق میری رہنمائی فرمائیں:

۱)عثمان کے دوست نے ایک گفتگو کے دوران کہا: "فیصل آباد کو چھوڑ، لاہور کی بات کر"۔ عثمان نے جواباً کہا: "ٹھیک ہے، فیصل آباد کو چھوڑ دیا"۔

واضح رہے کہ عثمان کی بیوی فیصل آباد سے تعلق رکھتی ہے۔ "فیصل آباد کو چھوڑنے" کا مطلب اس کا ذکر نہ کرنا یعنی موضوع تبدیل کرنا ہے، تو کیا اس جملے سے عثمان کی بیوی (راشدہ) پر طلاق واقع ہو جائے گی؟

۲) عثمان کے انچارج نے کہا: "لاہور کی چھٹی کا جواب دو؟" عثمان نے کہا: "جواب دیا"۔

کیا لفظ "جواب دیا" کہنے سے عثمان کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی؟ اور  اگر عثمان تنہائی میں بغیر اضافت  کے صرف "جواب دیا" کہے، تو کیا اس صورت میں بھی طلاق واقع ہو گی؟

۳) عثمان نے اخبار میں ایک خبر پڑھی کہ "بلوچ آزاد پسند افراد نے پنجابیوں پر حملہ کر دیا"۔ عثمان نے سوچا کہ اگر وہ کہے: "عثمان آزاد ہے" یا "عثمان آزاد پسند ہے"، تو کیا اس جملے سے عثمان کی بیوی پر طلاق واقع ہو گی، جبکہ یہاں کسی قسم کی اضافت (نسبت) عثمان کی بیوی کی طرف موجود نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ طلاق کے وسوسہ سے طلاق واقع نہیں ہوتی جب تک کہ زبان سے تکلم نہ ہو، اور تکلم میں جو الفاظِ طلاق ادا کئے جائیں،ان کی حقیقی یا حکمی  نسبت بیوی کی طرف ہونا ضروری ہے۔ اگر   زبان سے  طلاق کے الفاظ نہ کہے جائیں یا بیوی کی طرف اس کی نسبت نہ ہو،   اور محض دل میں خیال یا وسوسہ آجائے  تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔

لہٰذا  سوال میں مذکور پہلی صورت  میں عثمان کا  موضوع تبدیل کرنے کیلئے   "فیصل آباد کو چھوڑ دیا" کہنے  ، دوسری صورت میں  انچارج کے جواب میں "جواب دیا" کہنے اور   تیسری صورت میں "عثمان آزاد ہے یا آزاد پسند ہے" کہنے سے  طلاق واقع نہیں ہوتی۔

حوالہ جات

مرقاۃ المفاتیح(1/238):

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اللہ تجاوزعن امتی ماوسوست بہ صدورہامالم تعمل بہ اوتتکلم متفق علیہ ۔قال الملاعلی القاری :الخواطران کانت تدعوالی الرذائل فہی وسوسۃ ۔۔۔۔ماوسوست بہ صدورہاای ماخطر فی قلوبہم من الخواطرالردیئۃ ۔۔۔مالم تعمل بہ ای مادام لم یتعلق بہ العمل ان کان فعلیا،اوتتکلم بہ ای مالم یتکلم بہ ان کان قولیا۔

رد المحتارعلی الدرالمختار(16 / 259):

لا يجوز طلاق الموسوس قال : يعني المغلوب في عقله ، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب .

الدر المختار (247/03):

"باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) بالتشديد قيد بخطابها، لأنه لو قال: إن خرجت يقع الطلاق أو لا تخرجي إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لم يقع لتركه الإضافة إليها".

قال ابن عابدین رحمہ اللہ ":(قوله: لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ

           حضرت خُبیب

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

   19  /ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب