03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تصاویر والی کتب خرید و فروخت کا حکم
87498خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

بچوں کیلئے Drawing Book یا کہانیوں کی کتاب جو کہ بسا اوقات مکمل تصاویرپریااس کااکثرحصہ تصاویر پر مشتمل ہوتاہے(نمونہ لف کیا گیا ہے)۔اس صور ت میں مذکورہ ڈرائنگ بکس کو بیچنے کا کیا حکم ہے؟ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 اگر بچوں کی ڈرائنگ بکس یا کہانیوں کی کتابیں اس طرح ہوں کہ ان میں تصاویر ہی اصل مقصود ہوں، یعنی کتاب کا بیشتر حصہ تصاویر پر مشتمل ہو اور بچے یا والدین ان کتابوں کو تصاویر دیکھ کر پسند کریں، تو ایسی صورت میں یہ تصاویر محض تابع (secondary) نہیں رہتیں بلکہ مقصود بالذات (primary) بن جاتی ہیں۔

لہٰذا، اگر بچوں کی ڈرائنگ یا تصویری کہانیوں والی کتابوں میں تصاویر بنیادی حیثیت رکھتی ہوں اور ان کی خرید و فروخت میں انہی کا لحاظ رکھا جاتا ہو، تو ان کو بیچنا مکروہِ تحریمی یعنی ناجائز ہوگا۔

حوالہ جات

فقه البیوع (1/ 309):

بیع الصور غیر المجسدة ممنوع في مذهب الجمهور، ویدل علی ذلك  أن رسول الله صلی الله علیه وسلم حرم بیع الأصنام، ولفظ " الصنم " شامل في اللغة للصور التي لیس لها جثة، کما ذکره الحافظ ابن حجر رحمه الله عن بعض أهل اللغة.  

وإن کان الثوب أو القرطاس یُنتفع به بعد محو الصورة، فحکمه ما ذکرناه في آلات الملاهي من انعقاد البیع مع الکراهة عند الحنفیة والشافعیةولکن هذه الکراهة فيما إذا کان القرطاس أو الثوب متمحضًا للصورة

أما إذا کان المبیع شیئًا آخر من المباحات، وهو مشتمل علی صور، فتدخل في البیع تبعًا، فیجوز بیعهاوهذا مثل الجرائد والصحف والکتب التي یقصد منها مضمونها المباح، ولکنها ربما تشتمل علی صورت ممنوعة، وکذلك ما عمت به البلویٰ من أن العُلَب التي تعبَّأُ بها الأشیاء المباحة، یشتمل أکثرها علی صور، فلایمنع من بیعها إذا کان المقصود الأشیاء المباحة دون الصور.

         ارسلان نصیر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

 19/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب