03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مجسم کھلونوں کی خرید و فروخت کا حکم
87500خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

بچوں کے کھلونوں میں بکثرت جانداروں کی تصاویر یا مجسمے شامل ہوتے ہیں،یہ تصاویر/مجسمےبسااوقات تو باقاعدہ کسی جاندار کی ہوتی ہیں مثلاً کسی انسان یا جاندار کی شکل پر مبنی ہوتے ہیں اور بسا اوقات فرضی شکلیں ہوتی ہیں یعنی ایسا کوئی جاندار خارج میں نہیں پایا جاتا مثلاً گاڑی کی آنکھیں اور منہ بنا دیا وغیرہ،نیزاس میں مزید پہلو یہ بھی ہے کہ جاندار کی تصاویر دوطرح سےہوتی ہیں کہ کبھی تو تصویر کھلونے میں مقصود ہوتی ہے، مثلاً گڈے گڈیا ں کہ جس میں مکمل کھلونا جاندار کی صورت پر مبنی ہوتا ہے۔ اور بسا اوقات تصویر کا عنصر ضمنی ہوتا ہے مثلاً اصل مقصود کھلونے سے گاڑی وغیرہ خریدنا ہے لیکن ساتھ ساتھ اس میں کسی جاندار کی شکل / مجسمہ بھی شامل ہے(نمونہ  لف کیا گیا ہے) ۔

اس صور ت میں ذکرکردہ تفصیل کے مطابق کھلونوں کی بیع و شراء کا کیا حکم ہے؟کس قسم کے کھلونوں کی بیع و شراء جائز ہوگی اور کس قسم کے کھلونوں کی بیع و شراء ناجائز ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

     واضح ہوکہ احادیثِ مبارکہ میں تصویر اور مجسمہ سازی کے متعلق سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، اس لئے فقہاء کرام نے ایسے کھلونے جن میں جاندار کی واضح تصویر ہو یا اس کھلونے پر جاندار کی شکل کے تمام خدو خال باریکی سے باقاعدہ مجسمہ یا بت کے طرز پر بنے ہوئے ہو ں، ا ن کی خرید وفروخت کو منع فرمایا ہے، اس لئے ایسے کھلونوں کے کاروبار سے اجتناب لازم ہے، تاہم اگر کھلونے پر جاندار کی تصویر نہ ہو یا باقاعدہ باریکی سے تمام خدو خال کے مطابق نہ بنا ہو ، بلکہ اس کا چہرہ مسخ ہوا ہو اور اب وہ ایک عام سا ڈھانچہ ہو ، یا تصویر غیر واضح ہو یا کھلونے بہت چھوٹے ہوں، جن پر تصویر کچھ دور سے دیکھنے سے واضح نظرنہیں آتی ہو یا کوئی چیز خریدتے وقت مقصود تصویر نہ ہو ، بلکہ وہ ضمناً اس پر لگی ہوئی ہو تو ایسے کھلونوں کی خرید و فروخت کی اجازت ہوگی،لہذا آپ کے بھیجے گئے نمونوں میں سے وہ کھلونے جو کسی جاندار سے مشابہت نہ رکھتے ہوں جیسے روبوٹ  ، گاڑی وغیرہ ، ایسے کھلونوں کی خرید و فروخت جائز ہے ،البتہ ایسے کھلونے جن میں کسی جاندارکا مجسمہ ہو ان کی خریدو فروخت جائز نہیں۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 116):

فأما صورة ما لا حياة له كالشجر ونحو ذلك فلا يوجب الكراهة؛ لأن عبدة الصور لا يعبدون تمثال ما ليس بذي روح، فلا يحصل التشبه بهم، وكذا النهي ‌إنما ‌جاء ‌عن ‌تصوير ‌ذي ‌الروح لما روي عن علي رضي الله عنه أنه قال: من صور تمثال ذي الروح كلف يوم القيامة أن ينفخ فيه الروح،

حاشية ابن عابدين ،  رد المحتار ط الحلبي:(1/ 648)

(قوله أو مقطوعة الرأس) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي، وسواء كان القطع بخيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر، أو بطليه بمغرة أو بنحته، أو بغسله لأنها لا تعبد بدون الرأس عادة وأما قطع الرأس عن الجسد بخيط مع بقاء الرأس على حاله فلا ينفي الكراهة لأن من الطيور ما هو مطوق فلا يتحقق القطع بذلك، وقيد بالرأس لأنه لا اعتبار بإزالة الحاجبين أو العينين لأنها تعبد بدونها وكذا لا اعتبار بقطع اليدين أو الرجلين بحر۔

فقه البیوع (1/ 307-308):

١٣٥ - الأصنام والصور المجسدة واللعب

ويدخل في هذا القسم بيع الأصنام والصور المجسدة، إلا إذا كسرت وأمكن الانتفاع برضاضها، فيجوز بيعها. والأصل فيه حديث جابر بن عبد الله المال : أنه سمع رسول الله ﷺ يقول عام الفتح، وهو بمكة:"إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة، والخنزير، والأصنام" ۔۔۔ثم الظاهر أن من أجاز هذه اللعب للبنات، فإنما أجاز اللعب الصغيرة التي لا تشابه الأصنام، أما اللعب الكبيرة التي شاعت في عصرنا، فهي مشابهة للأصنام تماماً، وغالب ظني أنه لو رآها المجيزون لحكموا بمنعها، والله سبحانه أعلم.

 ارسلان نصیر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

 19/ذی قعدہ 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب