| 87501 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
مذکورہ بالاصورتوں میں جو صورت شرعاً ناجائز ہے ،اب تک اس ناجائزبیچی گئی چیزوں کی آمدن کا کیا حکم ہوگا ؟نیز اس قسم کی جو اشیاء ہماری دکان پر موجود ہیں ان کا ہم کیا کریں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جن چیزوں کی بیع جائز نہیں اور اگر ابھی تک آپ نے بیچی نہیں ہیں، بلکہ آپ کے پاس رکھی ہوئی ہیں، ان کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ اپنے بائع (جس سے آپ نے یہ یہ چیزیں خریدی ہیں) کو واپس کردیں۔ اور جو چیزیں آپ نے بیچی ہیں، اس پر سب سے پہلے توبہ اور استغفار کریں۔ جہاں تک ان چیزوں سے حاصل ہونے والی رقم کا تعلق ہے توجو رقم مجسم کھلونے وغیرہ بیچنے سے حاصل ہوئی ہے، اس رقم کو کسی مستحق شخص کو ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردیا جائے ،اور جو رقم مجسموں والے کیک اور کھانے پینے کی اشیاء کو بیچ کر حاصل کی گئی ہےتو چونکہ یہ رقم دو ایسی چیزوں (مجسمہ اور کھانے کی چیز) کے مجموعہ کے بدلے میں آئی ہے جو دونوں بیع میں مقصود ہوتی ہیں اور ان میں سے ایک جائز اور ایک ناجائز تھی،اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ آپ یہ پوری رقم (قیمتِ خرید مع نفع) بلا نیتِ ثواب مستحق فقراء کو دیدیں۔ لیکن اگر پوری رقم بلا نیتِ ثواب فقراء کو دینا مشکل ہو تو اس بات کی بھی گنجائش معلوم ہوتی ہے کہ یہ چیزیں آپ کو جس قیمت پر ملی تھیں، اس قیمت کو ان دونوں چیزوں (مجسمہ اور کھانے کی چیز) پر تقسیم کریں، اسی طرح آپ نے ان کو آگے بیچ کر جو نفع کمایا ہے، اس کو بھی ان دونوں چیزوں پر تقسیم کریں، پھر خالص کھانے کی چیز کی قیمتِ خرید اور اس کا نفع اپنے پاس رکھ لیں، اور مجسمہ اور ناجائز ڈیزائننگ کی قیمتِ خرید اور نفع فقراء کو بلا نیتِ ثواب دےدیں۔
حوالہ جات
المبسوط للسرخسي (11/ 112):
والربح الحاصل بكسب خبيث سبيله التصدق به،
فقه البیوع (2/ 981):
البیع المکروه، والمراد منه البیع الذي نهی عنه الشارع لمعنی خارج عن صلب العقد. وحکمه عند الحنفیة أن عاقده یأثم، ولکن البیع نافذ مع الإثم، والکراهة في الجمیع تحریمیة. وذهب بعض الفقهاء الحنفیة إلی أن فسخه لیس بواجب، ولکن صحح ابن الهمام وغیره أن الفسخ واجب علی العاقدین لرفع المعصیة بقدر الإمکان. وجمع ابن عابدین بین القولین بأن الفسخ المذکور في البیع المکروه واجب دیانةً فقط، وفي البیع الفاسد واجب دیانةً وقضاءً.
رد المحتار (5/ 105):
قوله ( أيضا ) أي كما في البيع الفاسد وقدمنا عن الدرر أنه لا يجب فسخه وما ذكره الشارح عزاه في الفتح أول باب الإقالة إلى النهاية ثم قال وتبعه غيره وهو حق لأن رفع المعصية واجب بقدر الإمكان ا هـ قلت: ويمكن التوفيق بوجوبه عليهما ديانة، بخلاف البيع الفاسد؛ فإنهما إذا أصرا عليه يفسخه القاضي جبرا عليهما؛ ووجهه أن البيع هنا صحيح ويملك قبل القبض ويجب فيه الثمن لا القيمة فلا يلي القاضي فسخه لحصول الملك الصحيح. قوله ( مجمع ) عبارته ويجوز البيع ويأثم ا هـ وليس فيه ذكر الفسخ.
ارسلان نصیر
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
19/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


