03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تصاویر والی اسٹیشنری اور دیگر اشیاء کی خرید و فروخت کا حکم
87499خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

بچوں کی رغبت اور دلچسپی میں اضافےکیلئے کمپنیاں بچوں کے کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ تصاویر والے کھلونے بھی جوڑ دیتی ہیں جس  میں بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایسی چیزوں کی خریداری میں جہاں کھانے کی چیز خریدنا مقصود ہے وہیں ساتھ ساتھ وہ کھلونا بھی مقصود ہےمثلاًبچوں کے ٹوتھ برش پر، اسٹیشنری کی مختلف قسم کی اشیاء پرمثلاً پینسل باکس، اسکول بیگ، لنچ باکس، پانی کی بوتل وغیرہ پر تصویر بنی ہوتی ہے ،جوس کے ڈبے/ گلاس کے ساتھ کوئی کھلونا جوڑ دیا، وغیرہ(نمونہ لف کیا گیا ہے)۔

اس صورت کے مطابق جب مبیع مخلوط ہوتی ہے (یعنی اسٹیشنری کے سامان کے ساتھ تصاویر یا مجسمے جُڑےہوئے ہوں یاکھانے کی اشیاء کے ساتھ تصویر پر مشتمل کھلونابھی شامل ہو) توایسی اشیاء کی بیع و شراء کا کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ایسی اشیاء جن میں کوئی جائز امر اور تصویر دونوں مقصود ہوں، تصویر محض تابع نہ ہو، جیسے اسٹیشنری کا وہ سامان جن پر جانداروں کی تصاویر بنی ہوتی ہیں (مثلاسپائڈر مین،بیٹ مین، سپر مین اور دیگر مشہور کارٹون جو جانداروں کی شکل میں ہوتے ہیں) کہ ان میں باقاعدہ تصویر دیکھ کر انتخاب کیا جاتا ہے۔ اب استعمال کرنے کے لیے اسٹیشنری اور دیگر سامان وغیرہ خریدنا جائز ہے، لیکن کسی مخصوص تصویر والی چیز  وغیرہ کا انتخاب کرنے سے وہ تصویر بھی مقصود بن جاتی ہے جو کہ جائز نہیں۔ اس لیے اس قسم کی چیزوں کی خرید وفروخت بھی  مکروہِ تحریمی یعنی ناجائز ہوگی، نیزواضح مجسمے جڑے ہونے کی صورت میں ان اشیاء کی خرید و فروخت  میں کراہت بیان کردہ کراہت سے   زیادہ شدید ہوگی  ۔

حوالہ جات

فقه البیوع (1/ 307-308):

١٣٥ - الأصنام والصور المجسدة واللعب

ويدخل في هذا القسم بيع الأصنام والصور المجسدة، إلا إذا كسرت وأمكن الانتفاع برضاضها، فيجوز بيعها. والأصل فيه حديث جابر بن عبد الله المال : أنه سمع رسول الله ﷺ يقول عام الفتح، وهو بمكة:"إن الله ورسوله حرم بيع الخمر والميتة، والخنزير، والأصنام" ۔۔۔ثم الظاهر أن من أجاز هذه اللعب للبنات، فإنما أجاز اللعب الصغيرة التي لا تشابه الأصنام، أما اللعب الكبيرة التي شاعت في عصرنا، فهي مشابهة للأصنام تماماً، وغالب ظني أنه لو رآها المجيزون لحكموا بمنعها، والله سبحانه أعلم.

فقه البیوع (1/ 309):

بیع الصور غیر المجسدة ممنوع في مذهب الجمهور، ویدل علی ذلك  أن رسول الله صلی الله علیه وسلم حرم بیع الأصنام، ولفظ " الصنم " شامل في اللغة للصور التي لیس لها جثة، کما ذکره الحافظ ابن حجر رحمه الله عن بعض أهل اللغة

وإن کان الثوب أو القرطاس یُنتفع به بعد محو الصورة، فحکمه ما ذکرناه في آلات الملاهي من انعقاد البیع مع الکراهة عند الحنفیة والشافعیةولکن هذه الکراهة فيما إذا کان القرطاس أو الثوب متمحضًا للصورة.

أما إذا کان المبیع شیئًا آخر من المباحات، وهو مشتمل علی صور، فتدخل في البیع تبعًا، فیجوز بیعهاوهذا مثل الجرائد والصحف والکتب التي یقصد منها مضمونها المباح، ولکنها ربما تشتمل علی صورت ممنوعة، وکذلك ما عمت به البلویٰ من أن العُلَب التي تعبَّأُ بها الأشیاء المباحة، یشتمل أکثرها علی صور، فلایمنع من بیعها إذا کان المقصود الأشیاء المباحة دون الصور.

فقه البیوع (2/ 981):

البیع المکروه، والمراد منه البیع الذي نهی عنه الشارع لمعنی خارج عن صلب العقدوحکمه عند الحنفیة أن عاقده یأثم، ولکن البیع نافذ مع الإثم، والکراهة في الجمیع تحریمیةوذهب بعض الفقهاء الحنفیة إلی أن فسخه لیس بواجب، ولکن صحح ابن الهمام وغیره أن الفسخ واجب  علی العاقدین لرفع المعصیة بقدر الإمکانوجمع ابن عابدین بین القولین بأن الفسخ  المذکور في البیع المکروه واجب دیانةً فقط، وفي البیع الفاسد واجب دیانةً وقضاءً.

       ارسلان نصیر

دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی

 19/ذی قعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

راجہ ارسلان نصیر بن راجہ محمد نصیر خان

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب