| 87561 | نکاح کا بیان | نکاح صحیح اور فاسد کا بیان |
سوال
اگر ایک لڑکا لڑکی ایک ہی مجلس میں بغیر گواہوں کے ایجاب وقبول کریں ،توكيا یہ نکاح درست ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
نکاح کے صحیح ہونے کے لئے شرط یہ ہے کہ کم از کم دو عاقل بالغ مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول ہو،لہٰذا اگر بغیر گواہوں کے موجودگی کے کسی نے ایجاب و قبول کر لیا تواس سے نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ اور بغیر نکاح کے آپس میں میل ملاپ رکھنا ناجائز اور حرام ہے۔
حوالہ جات
الھدایۃ : (1/185 ):
و لا ینعقد نکاح المسلمین إلا بحضور شاھدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین أو رجل و امرأتین .
(فتح القدیر : 3/199):
ولا ینعقد نکاح المسلمین إلا بحضور شاہدین عاقلین بالغین مسلمین رجلين ،أو رجل وامرأتين، عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف) اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله صلى الله عليه وسلم "لا نكاح إلا بشهود".
المبسوط للسرخسي (5/ 35):
(قال:) ولو تزوج امرأة بغير شهود أو بشاهد واحد ثم أشهد بعد ذلك لم يجز النكاح؛ لأن الشرط هو الإشهاد على العقد، ولم يوجد، وإنما وجد الإشهاد على الإقرار بالعقد الفاسد، والإقرار بالعقد ليس بعقد، وبالإشهاد عليه لا ينقلب الفاسد صحيحا.
محمد اسماعیل بن اعظم خان
دار الافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
21/ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اسماعیل بن اعظم خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


