03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دو بیٹے، دو بیٹیاں اور بیوہ کے درمیان ترکہ کی تقسیم
90533میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

والد کے انتقال کے بعد دو بیٹے دو بیٹیاں بیوہ کا وراثت میں تقسیم کی کیا ترتیب ہوگی؟ نیز بعض لوگ بہنوں کوان کا وراثتی حصہ نہیں دیتے،  وہ کہتے ہیں بہنوں کی شادیوں پر اتنا خرچہ ہوجاتا ہے، عید اورشب برات وغیرہ کے موقع پر بھی ان کا تعاون ہو رہا ہوتا ہے، لہذا اس مسئلہ کی بھی وضاحت فرما دیجیے۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 مذکورہ صورت میں مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاور مرحوم کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب الاداءہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں،البتہ اگر کسی نے بطور تبرع ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد مرحوم کا  وہ قرض  ادا کیا جائے  جس کی ادئیگی مرحوم کے ذمہ  واجب ہو۔ اس کے بعد اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ  میں سے ایک تہائی(1/3) تک اس پر عمل کیا جائے، اس کے بعدجو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوی کو دینے کے بعد بقیہ کو بیٹے اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ ملے، چنانچہ کل ترکہ کواڑتالیس(48) حصوں میں برابر تقسیم کرکے  مرحوم کی بیوی  کو  چھ حصے،ہربیٹے کو چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کو  سات(7) حصہ  دے دیے جائیں، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوہ

6

12.5%

2

بیٹا

14

29.166%

3

بیٹا

14

29.166%

4

بیٹی

7

14.583%

5

بیٹی

7

14.583%

6

مجموعہ

48

99.999%

 

 

 

 

 

 

 

باقی یہ بات یاد رہے کہ بہنوں کو بھی ان کا شرعی حصہ دینا شرعاً واجب اور ضروری ہے، جہیز یا شادی کے اخراجات میں وراثتی حصے کو شامل کرکے وراثت نہ دینا ہرگز جائز نہیں، کیونکہ عام طور پر شادی کے اخراجات والدین اور بھائیوں کی طرف سے بطورِ تبرع کیے جاتے ہیں، جن کا وراثت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، لہذا اگر کوئی شخص شادی وغیرہ کے اخراجات کی وجہ سے بہنوں کے حصے پر قابض ہوتا ہے تو وہ غاصب اور شریعت کی نظر میں سخت گناہ گار ہو گا، یہ بھی واضح رہے کہ بہنوں کا دباؤ میں آکر اپنا حصہ معاف کر دینے سے بھی وراثتی حصہ معاف نہیں ہوتا، کیونکہ یہ ہبة المشاع (کوئی لوگوں کے درمیان مشترکہ مال میں سے کچھ حصہ کسی کو ہدیہ کرنا) ہوتا ہے جو کہ تقسیم کی بغیر شرعاً تام اور مکمل نہیں ہوتا اور وہ چیز بدستور  مالک کے قبضہ میں رہتی ہے اور اس کو اور اس کے فوت ہونے کے بعد اس کے ورثاء کو اپنے شرعی حصے کے مطالبے کا بہرحال حق باقی رہتا ہے، جس کی ادائیگی دنیا میں کرنا ضروری ہے، ورنہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کا حساب دینا ہو گا۔  

حوالہ جات

      القرآن الکریم : [النساء:11]:

       يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.

      السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

لسان الحكام (ص: 236) الناشر: البابي الحلبي – القاهرة:

وفي جامع الفتاوى ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

2/ذوالقعدة1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب