03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
صدقات واجبہ کا مصرف
87807زکوة کابیانصدقہ فطر کے احکام

سوال

صدقہ فطر یا منت کی رقم مدرسے یا مستند فلاحی ادارے (ہسپتال/تنظیم) کو دینا جائز ہے یا لازم ہے کہ کسی مستحق فرد کو ہی دی جائے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صدقات واجبہ  کی ادائیگی میں یہ ضروری ہے کہ انہیں کسی مستحق زکوۃ شخص کو بغیر عوض کے مالک بنا کر دیا جائے۔  جو ادارے  شرعی اصول کی پابندی کرتے ہوئےغرباء اور مساکین کے وکیل(نائب) بن کر ان کی طرف سےصدقات واجبہ  وصول کرتے ہوں ، انہیں مذکورہ صدقات واجبہ دئیےجاسکتے ہیں۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (2/ 344):

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه)

حمادالدین قریشی

دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی

16/ذی القعدہ/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب