03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدت گزرنے کے بعد تیسری طلاق دینے کا حکم
87593طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میرے شوہر نے مجھے 4.4.2020کو زبانی طلاق دی اور تین ماہواریاں گزر گئیں، مگر رجوع نہیں کیا گیا، ایک طلاق میرے شوہر نے اس سے پہلے دی تھی، دوسری طلاق دینے کے ساڑھے تین ماہ بعد مورخہ 20.7.2020کو ایک نوٹس موصول ہوا، جس میں طلاق کے الفاظ  کے ساتھ جہیز کا سامان اٹھانے کا ذکر تھا، یہ نوٹس ساتھ منسلک ہے، اس نوٹس کو بعض رشتہ دار تیسری طلاق سمجھ رہے ہیں، جبکہ اس وقت میری عدت گزر چکی تھی، سوال یہ ہے کہ کیا منسلکہ نوٹس سے تیسری طلاق واقع ہو گئی یا نہیں؟ کیا ہمارا دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے؟ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال کے ساتھ ،منسلکہ نوٹس کے پہلے پیراگراف میں اگرچہ طلاق کے الفاظ ذکر کیے گئے ہیں، لیکن چونکہ یہ نوٹس سوال میں تصریح کے مطابق آپ کی عدت گزرنے کے بعد آپ کو بھیجا گیا تھا اور عدت مکمل ہونے کے بعد عورت پر طلاق واقع نہیں ہوتی، اس لیے اس نوٹس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا اب فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، البتہ اس سے قبل چونکہ یہ شخص آپ کو دو طلاقیں دے چکا ہے اس لیے دوبارہ نکاح کرنے کی صورت میں شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق باقی ہو گا، لہذا آئندہ کے لیے طلاق کے معاملے میں سخت احتیاط کی ضرورت ہو گی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 398) الناشر: دار الفكر-بيروت:

إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائما قبل انقضائها. اهـ.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

23/ذوالقعدة 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب