| 87612 | نکاح کا بیان | محرمات کا بیان |
سوال
زید نے رقیہ کی والدہ کا دودھ پیا ہے اور رقیہ نے زید کی والدہ کا دودھ پیا ہے۔ اب عمر، جو کہ زید کا چھوٹا علاتی بھائی ہے، نے رقیہ کی بیٹی فاطمہ سے نکاح کیا ہے۔ کیا عمر کا فاطمہ سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟
رقیہ نے زید کی والدہ کا دودھ پیا ہے، نہ کہ عمر کی والدہ کا، اور نہ ہی عمر کا رقیہ کے ساتھ کوئی قرابت (قریبی رشتہ) ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں رقیہ نے زید کی جس والدہ کا دودھ پیا ہے ،چونکہ وہ دودھ زید کے والد سے تھا جو عمر کا بھی والد ہے، اس لئے رقیہ کی بیٹی عمر کے والد کی رضاعی نواسی اور عمر کی رضاعی بھانجی بنتی ہے۔ اور چونکہ حقیقی بھانجی کی طرح رضاعی بھانجی سے بھی نکاح جائز نہیں، اس لئے مسئولہ صورت میں عمر کا رقیہ کی بیٹی سے نکاح جائز نہیں۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 213):
وأصله :يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري(3/ 242):
«(قوله: زوج مرضعة لبنها منه أب للرضيع وابنه أخ وبنته أخت وأخوه عم وأخته عمة) بيان لأن لبن الفحل يتعلق به التحريم لعموم الحديث المشهور وإذا ثبت كونه أبا له لا يحل لكل منهما موطوءة الآخر، والمراد به اللبن الذي نزل من المرأة بسبب ولادتها من رجل زوج أو سيد فليس الزوج قيدا في كلامه قال في الجوهرة: ولو كان لرجل زوجتان أرضعت كل منهما بنتا لا يحل لرجل أن يجمع بينهما لأنهما أختان رضاعا من الأب قيد بقوله لبنها منه لأن لبنها لو كان من غيره بأن تزوجت برجل وهي ذات لبن لآخر قبله فأرضعت صبية فإنها ربيبة للثاني بنت للأول فيحل تزوجها بأبناء الثاني ولو كان الرضيع صبيا حل له التزوج ببناته۔
حضرت خُبیب
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23 /ذی قعدہ/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حضرت خبیب بن حضرت عیسیٰ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


