| 87682 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
شوہرکابیان: میرا نام عدیل آزاد ہے اور جویریہ اسحاق میری زوجہ ہیں ، ہمارے تین بچے ہیں، کچھ دن پہلے ہمارے درمیان ایک تنازعہ ہوا، اس دوران میں نے اپنی بیوی کو ڈرانے کے لئے " ایک، دو، تین " کے الفاظ کہے ، پھر میں خاموش ہو گیا، لیکن جھگڑا ختم نہیں ہوا اور بحث ومباحثہ چلتارہا، اس دوران تقریباً پندرہ منٹ بعد میں نے غصے میں آکر بیوی سے کہا کہ " میں تمھیں طلاق دیتا ہوں"۔اس کے بعد ہم میاں بیوی کو پریشانی ہوئی اور کچھ لوگوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ہماری تین طلاقیں ہو چکی ہیں، جبکہ ایک عالم نے بتایا کہ ایک طلاق ہوئی ہے، تمہارے پاس رجوع کا آپشن موجود ہے۔اس واقعے کے بعد ہم ایک کمرے میں ره چکے ہیں، اس کے بعد ہم شاپنگ وغیرہ کرنے گئے، پھر بیوی اپنے والدین کے گھر چلی گئی، اس کے تقریباً پندرہ دن بعداس نےاپنا بیان تبدیل کر دیا،جبكہ والدین کے گھر رہتے ہوئے پہلےیہ بات کہہ رہی تھی کہ ہمارے درمیان کوئی بات نہیں ہوئی۔
بیوی کا بیان: میری طلاق کا واقعہ دو اگست کی رات ایک بجے پیش آیا، مجھے میرے شوہر نے طلاق دے دی، جس کا طریقہ اور الفاظ یہ تھے کہ شوہر نے بولا، " اٹھو جاؤ، میں نے تمہیں ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق دی۔ " پھر مجھے کچھ دن بعد سابقہ شوہر اور باجی جو کہ میری نند ہیں، مفتی انعام الحق صاحب کے پاس لے گئے، باجی نے خود اس بنیاد پر لکھا سوال لکھا کہ ہم اس لیے لکھ رہے ہیں کہ اگر ہماری بات باہر نکل گئی تو ہم ثبوت کے طور پریہ فتوی دکھائیں گے۔ میں بھی تھوڑا عرصہ چپ رہی، کیونکہ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کروں ؟ کیسے بتاؤں ؟ تین بچوں کا سوچ کر چپ ہو جاتی،پھر اپنی پھوپھی سے اس بات کا ذکر کیا، انہوں نے مجھے دوبارہ ادھر جانے سے منع کیا، پھر میں نے اپنی امی کے گھر جانے کا فیصلہ کیا، جب میں گھر گئی میں نے فورا ًاپنی امی کو نہیں بتایا ،میں نے جھوٹ بولا، پھر مجھے آہستہ آہستہ وقت کے ساتھ اندازہ ہوا کہ مجھے اس کے ساتھ نہیں رہنا، کیونکہ انہوں نےغلطی کر کے الٹا ہم پر الزامات لگائے جو کہ بہت دکھ دینے والے تھے ، میری ماں پر الزامات لگائے گئے، شرمندگی کی بجائے بہت باتیں کی گئیں، کوئی مثبت (Positive) بات سسرال والوں سے نہیں ملی، میں جھوٹ بول کے دو بارہ زندگی نہیں شروع کر سکتی تھی۔ بچوں کی زندگی خراب ہو گی، لیکن میں بچوں کی خاطر گناہ والی زندگی نہیں گزار سکتی۔
وضاحت: سائلہ کے بقول وہ اس پر حلفیہ بیان دینے کو تیار ہے کہ اس نےشوہر سے خود تین طلاق کے الفاظ سنے ہیں، لہذا شوہر اس معاملے میں جھوٹ اور غلط بیانی سے کام لے کر رہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید جاننا چاہیے کہ میاں اور بیوی کے درمیان طلاق کے معاملے میں اختلاف کی صورت میں دیانت اور قضاء کا حکم علیحدہ علیحدہ ہے، قضاءً مرد کا قول اور دیانتاً عورت کا قول معتبر ہوتا ہے، قضاءً کا مطلب یہ ہے کہ اگر معاملہ عدالت میں پہنچ جائے اور عورت کے پاس اپنے دعوی پر گواہ نہ ہوں تو قاضی مرد سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا اور اس صورت میں خاوند اگر جھوٹا ہوا تو اس کا گناہ اور وبال اسی پر ہو گا اوردیانتاً یعنی "فیما بینہ وبین اللہ" عورت اس کے لیے حلال نہیں ہو گی۔ دیانتاً کا مطلب یہ ہے کہ اگر عورت خودخاوند سے تین طلاق کے الفاظ سن لے یا اس کو کسی دیندار آدمی کے خبر دینےپر شوہر کی طرف سے تین طلاق دینے کا یقین ہو جائے تو وہ شرعاً اپنی ذات کے حق میں اسی پر عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے اور اس کے لیے خاوند کو اپنے اوپرہمبستری وغیرہ کے لیےقدرت دینا اور اس کے ساتھ رہنا ہرگز جائز نہیں ہوتا،کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے:"المرٲة کالقاضی" یعنی عورت کا حکم قاضی کی طرح ہے، مطلب یہ کہ جس طرح قاضی ظاہری صورتِ حال کے مطابق فیصلہ کرنے کا پابند ہوتا ہے، اسی طرح عورت پربھی خاوند کے ظاہری الفاظ کے مطابق عمل کرنا لازم ہے، اگرچہ عدالت گواہی نہ ہونے کی وجہ سے خاوند سے قسم لے کر اس کے حق میں فیصلہ کردے،کیونکہ عدالت صرف ظاہری صورتِ حال کے مطابق فیصلہ کرنے کی پابند ہے، جبکہ عورت خود شوہر سے تین طلاق کےالفاظ سن چکی ہے۔اس لیے ایسی صورت میں عورت شرعاً اپنی ذات کے حق میں دیانت پر ہی عمل کرنے کی پابند ہے۔
لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگر واقعتاً عورت نے اپنے شوہر سے تین طلاق کے الفاظ سنے ہیں اور اس پر حلفیہ وہ بیان دینے کو تیار ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہےتو اس صورت میں شرعاً اس کی بات معتبر مانی جائے گی اور اس کے بیان کے مطابق اس پر تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور فریقین کے درمیان نکاح ختم ہو کر حرمتِ مغلّظہ ثابت ہو چکی ہے، حرمتِ مغلّظہ کا مطلب یہ ہے کہ اب فریقین کے درمیان رجوع نہیں ہو سکتا اور موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور یہ اہلِ السنة والجماعت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے، اس لیے اب آپ دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، البتہ اگروہ اپنے سابقہ خاوند (جس نے تین طلاقیں دی ہیں ) سے نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد غیرمشروط طور پرکسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ خاوند عورت سے ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
لہذااب آپ دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں اور صلح کے ذریعہ بھی حرام چیز حلال نہیں ہو سکتی، فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہاں تک تصریح کی ہے کہ اگرایسی صورت میں عورت کے پاس گواہ نہ ہونے کی وجہ سے عدالت مرد سے قسم لے کر تین طلاق کے عدمِ وقوع کا فیصلہ کر دے تو بھی عورت مرد کے لیے دیانتاً حلال نہیں ہو گی اور اس کا مرد کو ازدواجی تعلقات کے لیے اپنے اوپر قدرت دینا ہرگز جائز نہیں ہو گا، چنانچہ فقہ حنفی کے ماخذ اور معتبر ترین کتاب "الاصل" (جس کو المبسوط بھی کہا جاتا ہے) میں امام محمدرحمہ اللہ نے صراحت کی ہےاورحنفیہ کی دیگر کتب میں بھی تصریح ہے کہ عدالت کے فیصلہ کے بعد بھی عورت مرد کے لیے شرعاً حلال نہیں ہو گی۔اور اگربالفرض شوہر اس کو اپنے ساتھ رہنے پر مجبور کرے تو عورت پر لازم ہے کہ وہ عدالتی کاروائی کے ذریعہ اپنی جان چھڑائے، کیونکہ پاکستانی قانون کےمطابق یہاں کی عدالتیں عورت کے مطالبہ پر خلع کا فیصلہ جاری کرتی ہیں، لہذا عورت کے کہنے پر عدالت خلع یا فسخ نکاح کا کوئی بھی فیصلہ جاری کردے تو عورت کو قانونی تحفظ مل جائے گا اور اس کے بعد شوہر اس کو اپنے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔
حوالہ جات
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 62) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
إن سمعته طلقها ثلاثا ثم جحد، وحلف أنه لم يفعل، وردها القاضي عليه لم يسعها المقام معه، ولم يسعها أن تتزوج بغيره أيضا قال يعني البديع.
والحاصل أنه جواب شمس الإسلام الأوزجندي ونجم الدين النسفي والسيد أبي شجاع وأبي حامد والسرخسي يحل لها أن تتزوج بزوج آخر فيما بينها وبين الله تعالى، وعلى
جواب الباقين لا يحل انتهى، وفي الفتاوى السراجية إذا أخبرها ثقة أن الزوج طلقها، وهو غائب وسعها أن تعتد وتتزوج، ولم يقيده بالديانة، والله أعلم.
قال المصنف - رحمه الله - وقد نقل في القنية قبل ذلك عن شرح السرخسي ما صورته طلق امرأته ثلاثا، وغاب عنها فلها أن تتزوج بزوج آخر بعد العدة ديانة ونقل آخر أنه لا يجوز في المذهب الصحيح اهـ.
قلت إنما رقم لشمس الأئمة الأوزجندي، وهو الموافق لما تقدم عنه، والقائل بأنه المذهب الصحيح العلاء الترجماني ثم رقم بعده لعمر النسفي، وقال حلف بثلاثة فظن أنه لم يحنث، وعلمت الحنث، وظنت أنها لو أخبرته ينكر اليمين فإذا غاب عنها بسبب من الأسباب فلها التحلل ديانة لا قضاء قال عمر النسفي سألت عنها السيد أبا شجاع فكتب أنه يجوز ثم سألته بعد مدة فقال إنه لا يجوز، والظاهر أنه إنما أجاب في امرأة لا يوثق بها اهـ.
كذا في شرح المنظومة، وفي البزازية شهد أن زوجها طلقها ثلاثا إن كان غائبا ساغ لها أن تتزوج بآخر، وإن كان حاضرا لا؛ لأن الزوج إن أنكر احتيج إلى القضاء بالفرقة، ولايجوز القضاء بها إلا بحضرة الزوج. اهـ.
البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (4/ 63) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
وفيها سمعت بطلاق زوجها إياها ثلاثا، ولا تقدر على منعه إلا بقتله إن علمت أنه يقربها تقتله بالدواء، ولا تقتل نفسها، وذكر الأوزجندي أنها ترفع الأمر إلى القاضي فإن لم يكن لها بينة تحلفه فإن حلف فالإثم عليه، وإن قتلته فلا شيء عليها، والبائن كالثلاث. اهـ. وفي التتارخانية.
وسئل الشيخ أبو القاسم عن امرأة سمعت من زوجها أنه طلقها ثلاثا، ولا تقدر أن تمنعه نفسها هل يسعها أن تقتله في الوقت الذي يريد أن يقربها، ولا تقدر على منعه إلا بالقتل فقال لها أن تقتله، وهكذا كان فتوى الإمام شيخ الإسلام عطاء بن حمزة أبي شجاع، وكان القاضي الإمام الإسبيجابي يقول ليس لها أن تقتله، وفي الملتقط، وعليه الفتوى في فتاوى الشيخ الإمام محمد بن الوليد السمرقندي .
البناية شرح الهداية (12/ 207) دار الكتب العلمية – بيروت:
قوله: ولو أن امرأة أخبرها ثقة إلى قوله وإذا باع المسلم خمرا، من مسائل كتاب " الاستحسان "، ذكرها تفريعا على مسائل " الجامع الصغير ". وكذا لو قالت لرجل: طلقني زوجي وانقضت عدتي فلا بأس بأن يتزوجها. وكذا إذا قالت المطلقة الثلاث: انقضت عدتي وتزوجت بزوج آخر ودخل بي ثم طلقني وانقضت عدتي، فلا بأس بأن يتزوجها الزوج الأول. وكذا لو قالت جارية: كنت أمة لفلانفأعتقني لأن القاطع طارئ، ولو أخبرها مخبر أن أصل النكاح كان فاسدا، أو كان الزوج حين تزوجها مرتدا أو أخاها من الرضاعة لم يقبل قوله حتى يشهد بذلك رجلان أو رجل وامرأتان، وكذا إذا أخبره مخبر: أنك تزوجتها وهي مرتدة أو أختك من الرضاعة لم يتزوج بأختها أو أربع سواها، حتى يشهد بذلك عدلان؛ لأنه أخبر بفساد مقارن، والإقدام على العقد يدل على صحته وإنكار فساده، فثبت المنازع بالظاهر، بخلاف ما إذا كانت المنكوحة صغيرة فأخبر الزوج أنها ارتضعت من أمه أو أخته حيث يقبل قول الواحد فيه؛ لأن القاطع طارئ والإقدام الأول لا يدل على انعدامه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
23/ذوالقعدة 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


