| 87624 | پاکی کے مسائل | نجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان |
سوال
کمبل پر چھوٹی بچی نے الٹی اور پیشاب کیا ہے۔اب اگر اس کو پاک کرنے کیلئے صاف فرش پر پھیلا دیا جائے اور پانی سرف لگا کر اچھی طرح رگڑ کر پائپ سےپانی ڈال کر سرف والا پانی نکال دیا جائے اور آخر میں کمبل کے اوپر پائپ رکھ کر چھوڑ دیا جائے تاکہ اچھی طرح پانی بہہ سکے اور اس کے بعد کمبل کو کسی اونچی جگہ خشک ہونے کیلئے ڈال دیا۔۔کیا اس طریقے سے کمبل شرعی طور پر پاک کہلائے گا؟اسی طریقے سے باقی چیزیں جن کونچوڑنا مشکل ہے اس طرح پاک کر سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جن چیزوں کو دھو کر نچوڑنا ممکن نہ ہو جیسے کمبل، قالین وغیرہ ،ان چیزوں میں اگر نجاست (مثلاً پیشاب) جذب ہوجائے تو ان کو پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جس جگہ نجاست لگی ہو اس جگہ کو تین مرتبہ دھوئیں، پہلی مرتبہ دھو کر چھوڑدیں یہاں تک کہ اس میں سے پانی ٹپکنا بند ہوجائے، پھر دوسری مرتبہ دھو کر اتنی دیر چھوڑدیں کہ پانی ٹپکنا بند ہوجائے، اسی طرح تیسری مرتبہ دھونے کے بعد جب پانی ٹپکنا بند ہوجائے تو وہ چیزیں پاک ہوجائیں گی، سوکھناضروری نہیں۔یہ تفصیل اس وقت ہےکہ جب کسی برتن یا چھوٹے حوض میں ڈال کر دھویا جائے ،اگر اوپر سے پانی ڈالا جائے یا بہتے پانی میں ڈالا جائے تو تین مرتبہ دھونا شرط نہیں ، بلکہ نجاست والی جگہ پر اتنا پانی بہا دیا جائے کہ اس کے پاک ہونے کا غالب گمان ہو جائے۔
صورتِ مسئولہ میں کمبل کو پاک کرنے کے لیے جو طریقہ بیان کیا گیا اس کو اختیار کرلینے سےبھی کمبل پاک ہوجائے گا اور اسی طریقے سے باقی چیزیں جس کا نچوڑنا مشکل ہو اس کو بھی مذکورہ بالا طریقے سے پاک کیا جاسکتا ہے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 332):
(و) قدر (بتثليث جفاف) أي: انقطاع تقاطر (في غيره) أي: غير منعصر مما يتشرب النجاسة وإلا فبقلعهاكما مر، وهذا كله إذا غسل في إجانة، أما لو غسل في غدير أو صب عليه ماء كثير، أو جرى عليه الماء طهر مطلقا بلا شرط عصر وتجفيف وتكرار غمس هو المختار.
عمار بن عبد الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
26/ذی القعدہ 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عماربن عبدالحق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


