03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اے آئی سے کارٹون بنوانے کا حکم
87652جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

اگر اے آئی کے ذریعے تصاویر، ویڈیوز، 2Dیا 3Dاینیمیشن (Animation)اور کارٹونز بنا کر یوٹیوب پر اپلوڈ کی جائیں اور اس سے آمدنی حاصل ہو، تو اس آمدنی کا کیا شرعی حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اے آئی سے تصویر یا ویڈیو بنوانا جائز ہے  ،بشرطیکہ  وہ  موسیقی  اور  بے حیائی پر مشتمل نہ ہو۔اگر اس کے بیک گراؤنڈ میں موسیقی کا استعمال کیا جائے ، یا وہ کارٹون ایسے ہوں جو بے حیائی پر مشتمل ہوں تو اس  کا بنوانا جائز نہیں۔

اس تمہید کے بعد جواب یہ ہے کہ  اگر  آپ اے آئی سے  ایسے کارٹون بنوائیں، جس میں بے حیائی اور موسیقی نہ ہو تو یہ جائز ہے اور اس  کےذریعے  حاصل ہونے والی کمائی بھی حلال ہے۔ 

حوالہ جات

تكملة فتح الملهم (4 / 162):

أما التلفزون و الفديو فلا شك في حرمة استعمالهما بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعۃ والمجون ، والکشف عن النساء المتبرجات او العاریات ، و ما الی ذلک من اسباب الفسوق ،ولکن ھل یتاتی فیھما حکم التصویر بحیث اذا کان التلفزیون او الفیدیو خالیا من ھذہ المنکرات باسرھا ، ھل یحرم بالنظر الی کونہ تصویرا؟ فان لھذا العبد الضعیف ۔عفااللہ عنہ۔ فیہ وقفۃ : وذلک لان الصورۃ المحرمۃ ما کانت منقوشۃ او منحوتۃ بحیث یصبح لھا صفۃ الاستقرار علی شیء ،وھی الصورۃ التی کان الکفار یستعملونھا للعبادہ ،أما الصورة التي ليس لها ثبات و استقرار و ليست منقوشة على شيئ بصفة دائمة فانها بالظل اشبه منها بالصورة و يبدوا أنَّ صورة التلفزون و الفديو لا تستقر على شيئ في مرحلة من المراحل.

 محمد اسامہ فاروق

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

26/ذی القعده/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اسامہ فاروق بن محمد طاہر فاروق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب