| 87319 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
میں ایک خاتون سے نکاح کرنا چاہتا ہوں جن کی ایک بیٹی بھی ہے شفا، جس کی عمر ابھی دو ماہ ہے،شریعت کی روشنی میں مجھےاس کی تربیت کیسے کرنی چاہئے؟ اور شریعت کا کیا حکم ہےمجھ پر؟شفا کے والد نے شفا کو اپنے پاس رکھنے اور اس کا نان نفقہ دینے سے منع کر دیا اس صورت میں مجھے کیا کرنا چاہیے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں چونکہ بچی کے والد نے نان نفقہ دینے سے منع کیا ہے ،اس لیے اگر خاندان کی دیگر خواتین بچی کو رکھنے اور پرورش کرنے سے دستبردار ہوجاتی ہیں اور آپ اس بات پر راضی ہیں کہ بچی کو اپنے پاس رکھ کر اس کی پرورش اور تربیت کا اہتمام کرسکیں تو اس کی نہ صرف گنجائش ہے، بلکہ اس پر آپ کو اجر بھی ملے گا۔
شریعت میں اپنی بچیوں کی تعلیم وتربیت کا جو طریقہ کار ہے ،اس کے مطابق اس بچی کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ضروری دینی ،اخلاقی اور دنیاوی تعلیم کا انتظام کرناچاہیے ۔
حوالہ جات
لسان العرب (405/1، دار صادر):
ربيبة الرجل بنت امرأته من غيره. وفي حديث ابن عباس، رضي الله عنهما: إنما الشرط في الربائب؛ يريد بنات الزوجات من غير أزواجهن الذين معهن.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 612):
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر، فإن نفقة المملوك على مالكه والغني في ماله الحاضر؛ فلو غائبًا فعلى الأب ثم يرجع إن أشهد لا إن نوى إلا ديانةً؛ فلو كانا فقيرين فالأب يكتسب أو يتكفف وينفق عليهم، ولو لم يتيسر أنفق عليهم القريب.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 283):
" وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد " لما روى أن امرأة قالت يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وحجري له حواء وثديي له سقاء وزعم أبوه أنه ينزعه مني فقال عليه الصلاة والسلام: " أنت أحق به مالم تتزوجي " ولأن الأم أشفق وأقدر على الحضانة فكان الدفع إليها أنظر وإليه أشار الصديق رضي الله عنه بقوله ريقها خير له من شهد وعسل عندك يا عمر قاله حين وقعت الفرقة بينه وبين امرأته والصحابة حاضرون متوافرون..... ولا تجبر الأم عليه " لأنها عست تعجز عن الحضانة "
فإن لم تكن له أم فأم الأم أولى من أم الأب وإن بعدت " لأن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات " فإن لم تكن أم الأم فأم الأب أولى من الأخوات " لأنها من الأمهات …… فإن لم تكن له جدة فالأخوات أولى من العمات والخالات ….. وتقدم الأخت لأب وأم " لأنها أشفق " ثم الأخت من الأم ثم الأخت من الأب " لأن الحق لهن من قبل الأم " ثم الخالات أولى من العمات " ترجيحا لقرابة الأم " وينزلن كما نزلنا الأخوات " معناه ترجيح ذات قرابتين ثم قرابة الأم " ثم العمات ينزلن كذلك وكل من تزوجت من هؤلاء يسقط حقها " لما روينا ولأن زوج الأم إذا كان أجنبيا يعطيه نزرا وينظر إليه شزرا۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
25/ شوال 14
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


