| 87657 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
میری ایک بیٹی کا نام"ایزہ"اور دوسری کا نام " ایرا "ہے،کیا یہ نام درست ہیں یا انہیں تبدیل کرنا ضروری ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لفظ "ایزہ" کا معنی کسی لغت میں نہیں ملا،لہٰذاآپ صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام اپنی بیٹی کا رکھ لیں،یہ زیادہ بہتر اور باعثِ برکت ہے۔
اردو کی ایک ویب سائٹ ریختہ کے مطابق لفظ" ایرا "کے معنی ہیں "1 (شکار) بن سے نکلتے وقت شکار کے پیروں کی آہٹ جو سوکھے پتوں پر چلنے سے پیدا ہوتی ہے۔2 (شطرنج) وہ مہرا جو شاہ کو شکست سے بچانے کے لیے بیچ میں لایا جاتا ہے"،اور اس لفظ کا تلفظ الف کے زبر کے ساتھ ہے،یعنی" اَیرا"۔بظاہر یہ نام بھی زیادہ بہتر نہیں،لہٰذا اس کے بجائے صحابیات کے ناموں میں سے کوئی نام اپنی بیٹی کا رکھ لیں۔
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تم قیامت کے دن اپنے ناموں اور اپنے باپوں کے ناموں سے پکارے جاؤ گے، لہٰذا اپنے نام اچھے رکھو۔"
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ایسے نام رکھنا جو نہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ذکر فرمائے ہوں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے استعمال فرمائے ہوں، اور نہ مسلمانوں میں ان کا رواج ہو،ایسے ناموں کے بارے میں علماء نے کلام کیا ہے، اور بہتر یہی ہے کہ ایسے نام نہ رکھے جائیں۔"
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"جس کے ہاں بچہ پیدا ہو، وہ اس کا اچھا نام رکھے اور اسے عمدہ ادب سکھائے، پھر جب وہ بالغ ہو جائے تو اس کا نکاح کرے، اور اگر وہ بالغ ہو جائے اور باپ نے اس کا نکاح نہ کیا اور وہ کسی گناہ میں مبتلا ہو گیا تو اس کا گناہ اس کے باپ پر ہوگا۔"
حوالہ جات
( أبوداؤد303/7)(،الحدیث رقم:4948)
أخرج الإمام أبوداؤد:عن أبی الدرداء رضی اللہ عنہ،قال:قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:إنکم تدعون یوم القیامۃ بأسمائکم وأسماء آبائکم،فاحسنوا أسماءکم.
( الفتاوى الهندية: 5/ 362)
وفي الفتاوى: التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عباده ولا ذكره رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا استعمله المسلمون تكلموا فيه والأولى أن لا يفعل كذا في المحيط.
مشكاة المصابيح:( 2/ 939)
وعن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه. (
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
26.ذوالقعدہ1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


