| 87705 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
میں نےمولانا انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کی ایک کتاب میں پڑھا ہےکہ سری نماز میں امام کے پیچھے قراءت کر سکتے ہیں، یہ ناجائز نہیں ۔ یہ امام محمد بن حسن شیبانی کے نزدیک مستحب ہےاور امام ابوحنیفہ کے نزدیک منع نہیں ہے۔ اگر کوئی پڑھے تو نماز میں کوئی خرابی نہیں ہوگی ۔ اسی طرح مفتی شعیب اللہ خان نےبھی اپنی کتاب دلیل نماز جواب حدیث نماز میں اسی طرح کہا ہے ۔کیا میں سری نماز میں امام کے پیچھے قراءت کر سکتا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امام محمد رحمہ اللہ کی طرف جس قول کی نسبت کی گئی ہے، وہ ضعیف ہے۔ احناف کے نزدیک مقتدی کا امام کے پیچھے سری، جہری کسی بھی نماز میں قرأت کر نا مکروہ تحریمی ہے، لہٰذا امام کے پیچھے مقتدی کے لیے کسی قسم کی قراءت کرنا خواہ وہ سورہ فاتحہ ہو یا کوئی اور سورت، جائز نہیں، نیز اس حکم میں سری اور جہری نمازوں میں کوئی فرق نہیں؛ کیوں کہ امام مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہے، مثلاً: اگر امام کا وضو نہ ہو تو تمام مقتدیوں کی نماز ادا نہیں ہوگی، اگرچہ تمام مقتدی باوضو ہوں۔ اسی طرح امام سے سہو ہوجائے تو تمام مقتدیوں پر سجدہ سہو لازم ہوتاہے، اگرچہ کسی مقتدی سے کوئی سہو نہ ہو۔ لہٰذا نماز خواہ سری ہو یا جہری امام کی قرأت تمام مقتدیوں کی طرف سے کافی ہوگی۔
حوالہ جات
(شرح معاني الآثار للامام الطحاوي، الحديث:1192، ج:1، ص:217، ط:دارالكتب العلمية): "عن جابر بن عبد الله أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من كان له إمام فقراءة الامام له قراءة".
حاشیہ ابن عابدین (ج:1، ص:544، ط:ایچ ایم سعید)
(والمؤتم لا يقرأ مطلقا) ولا الفاتحة في السرية اتفاقا، وما نسب لمحمد ضعيف كما بسطه الكمال (فإن قرأ كره تحريما) وتصح في الأصح. وفي درر البحار عن مبسوط خواهر زاده أنها تفسد ويكون فاسقا، وهو مروي عن عدة من الصحابة فالمنع أحوط (بل يستمع) إذا جهر (وينصت) إذا أسر «لقول أبي هريرة - رضي الله عنه - كنا نقرأ خلف الإمام فنزل - {وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا} [الأعراف: 204]-» (وإن) وصلية (قرأ الإمام آية ترغيب أو ترهيب) وكذا الإمام لا يشتغل بغير القرآن، وما ورد حمل على النفل منفردا كما مر (كذا الخطبة) فلا يأتي بما يفوت الاستماع ولو كتابة أو رد سلام (وإن صلى الخطيب على النبي - صلى الله عليه وسلم - إلا إذا قرأ - {صلوا عليه} [الأحزاب: 56]- فيصلي المستمع سرا) بنفسه وينصت بلسانه عملا بأمري - {صلوا} [الأحزاب: 56]- {وأنصتوا} [الأعراف: 204]-
(قوله ولا الفاتحة) بالنصب معطوف على محذوف تقديره لا غير الفاتحة ولا الفاتحة، وقوله في السرية يعلم منه نفي القراءة في الجهرية بالأولى، والمراد التعريض، بخلاف الإمام الشافعي ويرد ما نسب لمحمد (قوله اتفاقا) أي بين أئمتنا الثلاثة. (قوله وما نسب لمحمد) أي من استحباب قراءة الفاتحة في السرية احتياطا (قوله كما بسطه الكمال) حاصله أن محمدا قال في كتابه الآثار: لا نرى القراءة خلف الإمام في شيء من الصلوات يجهر فيه أو يسر، ودعوى الاحتياط ممنوعة، بل الاحتياط ترك القراءة لأنه العمل بأقوى الدليلين. وقد روي الفساد بالقراءة عن عدة من الصحابة فأقواهما المنع (قوله أنها تفسد) هذا مقابل الأصح (قوله وهو) أي الفساد المفهوم من تفسد (قوله مروي عن عدة من الصحابة) قال في الخزائن: وفي الكافي: ومنع المؤتم من القراءة مأثور عن ثمانين نفرا من كبار الصحابة، منهم المرتضى والعبادلة وقد دون أهل الحديث أساميهم".
منیب الرحمنٰ
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
27/ذی قعدہ /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | منیب الرحمن ولد عبد المالک | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


